جمعہ، 28 ستمبر، 2018

میں آغاخانی سے مسلمان کیسے ہوا؟ - حصہ دوئم



پچھلی پوسٹ میں، میں نے آغاخانیوں کے مشرکانہ عقیدے، یعنی بجائے اللہ کے، آغاخان دعا مانگنے پر روشنی ڈالی تھی۔

آج ایک ایسے دوسرے پہلوپر بات کروں گا، جو ہر آغآخانی اسماعیلی محسوس تو ضرور کرتا ہو گا، مگر شاید ہی کبھی اس سوال کو جماعت خانے میں اٹھانے کی جرات کرے۔

جماعت خانے میں، قرآن کی تعلیمات اور رسول اللہ کی تعلیمات کی عدم موجودگی، اور صلوٰۃ کا عجیب طریقہ:



اگر آپ کسی آغآخانی سے پوچھیں کہ کیا آپ کے جماعت خانے میں قرآن اور حدیث کی تعلیمات دی جاتی ہیں، تو اُس آغاخانی کی طرف سے جواب یقیناً نفی میں ہو گا۔ اگر مثبت جواب مل جائے تو چند مزید سوالوں سے آپ کو پتا لگ جائے گا کہ آغا خانی، قرآن اور حدیث کے بنیادی علوم سے مکمل طور پر نا آشنا ہیں۔  مثلاً ان کے نزدیک حدیث کا کوئی بھی مجموعہ قابلِ قبول نہیں۔ دنیا کے تمام جماعت خانوں میں قرآن کا ایک بھی مصحف نہیں ملے گا۔ میں نے بچپن سے آج تک اپنے آغاخانی رشتہ داروں کے گھروں میں کوئی قرآن نہیں دیکھا۔ اِس کر وجہ صاف ہے:

آغاخانیوں کے نزدیک،ان کا امام کریم آغاخان خود "بولتا قرآن" ہے، اور وہ صاف کہتے ہیں کہ چونکہ آغاخان خود "بولتا قرآن" ہے، لہذا انہیں قرآن پڑھنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ کریم آغا خان خود ہی انہیں قرآن کا خلاصہ بتا دیتا ہے۔

آغاخانیت کے کرتادھرتاوں کو اچھی طرح معلوم ہے کہ اگر آغاخانیوں نے قرآن کی تعلیمات پڑھ لیں تو انہیں اسلام اور آغاخانیت کا فرق صاف پتا چل جائے گا اور اللہ کی ھدایت کا دروازہ ان پر کھل جائے گا۔ خود آغاخان کی منافقت کا یہ عالم ہے کہ ایک طرف وہ اپنے فرامین میں قرآن کی اہمیت کا اقرار کرتا ہے، اور دوسری طرف وہ قرآن کا کوئی بھی حکم اپنی جماعت پر صادر کرنے سے گریز کرتا ہے۔

دوسری طرف حدیث کی عدم موجودگی میں آغاخانی قرآن کے کسی بھی حکم کا عمل، حدیث سے اخذ نہیں کرتے۔ مثلاً:
 
1۔ آغاخانیوں کے ہاں فرض، سنت، واجب اور نفل کا کوئی تصور نہیں ہے۔

2۔ آغاخانی، نمازِنبوی کا رد کرتے ہیں۔ ان کی نماز کا طریقہ شیعہ اور سنّی کی نمازوں کے طریقۂ کار سے بلکل مختلف ہے۔ ان کی نمازوں میں کوئی رکوع نہیں ہوتا، بلکہ پوری نماز، آلتی پالتی مار کر بیٹھ کر پڑھ لیتے ہیں۔


3۔ آغاخانی، دن میں پانچ وقت کی جگہ دو وقت اپنی خود ساختہ نماز پڑھتے ہیں (ایک نماز صبح اور دو نمازیں شام کو ملا کر)

4- آغاخانیوں کی نمازوں کے اوقات کا سورٖج کے طلوع اور غروب سے نہیں بلکہ پورے سال ایک ہی وقت نماز پڑھی جاتی ہے۔ امریکہ اور کینیڈآ میں شام کی نمازوں کا وقت ہفتہ اور اتوار کو شام 7:00 بجے اور باقی دنوں میں شام 7:30 بجے ہے۔ حالانکہ یہاں کے علاقوں میں گرمیوں میں مغرب کے اوقات رات 9:00 بجے تک ہو جاتے ہیں، مگر آغاخانیوں کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ ان کی نمازیں، اوقاتِ طلوع و غروب شمس سے متوازی ہیں یا نہیں۔ ہاں البتہ اس بات کا خیال ضرور رکھتے ہیں کہ جماعت خانے کے اوقات کا، کاروباوی اوقات سے تسادم نہ ہو۔


5۔ آغاخانیوں کی نماز میں رکعات کی تعداد 6 ہے(ہر رکعت کو "پاٹھ" کہتے ہیں)۔

6- آغاخانی، اپنی خود ساختہ نماز میں اپنی مرضی کی قرآنی سورہ نہیں پڑھ سکتے، بلکہ مقرر کردہ سورتیں اور آیات کے ٹکڑے مسخ کر کے پڑھتے ہیں۔


7۔ آغاغانی قبلہ رو ہو کر اپنی نماز نہیں پڑھتے، بلکہ کسی بھی سمت کی جانب پڑھ لیتے ہیں۔ ان کے نزدیک کعبۃ اللہ کی کوئی حیثیت نہیں۔

8۔ آغاخانیوں کے نزدیک حج کی تاویل کریم آغاخان کو دیکھنا ہے۔ نہ تو کریم آغاخان نے کبھی اصل اسلامی حج کیا، نہ کوئی آغاخانی حج کو دینی فریضہ سمجھتا ہے۔

آغاخانیوں کو صرف اور صرف وہی کتابیں پڑھنے کی اجازت ہے، جو آغاخان سے منظورشدہ ہیں اور صرف جماعت خانے ہی سے دستیاب ہیں۔ یہ تمام کتابیں قرآن اور حدیث سے کوسوں دور ہیں۔

سب سے زیادہ حیرت کی یہ بات ہے کہ آغاخان خود اپنے پیروکاروں کے سامنے کہ چکا ہے کہ قرآن ایک عظیم کتاب ہے اور فرمانِ الٰہی ہے۔ البتہ اس سے آگے کوئی ایسا قدم نہیں اٹھایا جس سے قرآنی تعلیمات، نصاب میں شامل کر کے اسماعیلی آغاخانیوں تک پہنچائی جائیں۔ بد قسمتی سے جب بھی آغاخان، قرآن کی تعریف بیان کرتا ہے، تو ہر آغاخانی یہی سمجھتا ہے کہ چونکہ آغاخان بولتا قرآن ہے، تو یہ عظمت آغاخان ہی کی ہے۔ نعوذُبللّہ۔

میرے وہ بھائی جو آغاخانیت چھوڑ کر اسلام میں داخل ہو چکے ہیں، اور قرآن کا مطالعہ کر چکے ہیں، اچھی طرح جانتے ہیں کہ قرآن اور اسماعیلی تعلیمات میں زمین اور آسمان کا فرق ہے۔


(باقی آئندہ)

میں آغاخانی سے مسلمان کیسے ہوا؟ - حصہ اول




اس سے پہلے کہ میں اس حصہ کا آغاز کروں ،میں بتا دینا چاہتا ہوں کہ ہدایت صرف اور صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے- وہ جسے چاہے ہدایت دے اور جسے چاہے نہ دے۔ ہاں البتہ بندے کا ہدایت کے لیئے متلاشی ہونا شرط ہے۔ جیسا کہ اللہ نے قرآن میں فرمایا:


وَمَا كَانَ لِنَفْسٍ أَنْ تُؤْمِنَ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ وَيَجْعَلُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِينَ لَا يَعْقِلُونَ
(سورہ یونس، ۱۰۰)



ترجمہ: حالانکہ کسی شخص کو قدرت نہیں ہے کہ اللہ کے حکم کے بغیر ایمان لائے اور جولوگ بے عقل ہیں ان پر وہ کفر اور ذلت کی نجاست ڈالتا ہے


آغاخانیت میں کئی اچھوتی باتیں تھیں جومیں ایک ایک کرکےبیان کروں گا۔

امام کا گناہوں کو معاف کرنےکا اختیار:


آغاخانیت کا عقیدہ ہے کہ گناہوں کی معافی مانگنے کا طریقہ صرف اور صرف حاضر امام ، یعنی کریم آغاخان سے براہ ِراست گناہوں کی معافی مانگنا ہے۔ واضح رہے کہ یہاں بات وسیلے کی نہیں ہو رہی ہے بلکہ براہِ راست آغاخان سے مانگنے کی بات ہو رہی ہے، جو کہ کھلا شرک ہے۔ آغاخانی اپنے جماعت خانوں میں اپنی خود ساختہ نماز (جس کے بارے میں آئندہ بیان کروں گا) کے آخر میں حرف بہ حرف مندرجہ ذیل الفاظ کہتے ہیں:


یا نور مولاناشاہ کریم الحسینی حاضر امام ، گت جماعت کے گناہ معاف فرما،یا نور مولاناشاہ کریم الحسینی حاضر امام ، جماعت کی مشکلیں آسان کر،یا نور مولاناشاہ کریم الحسینی حاضر امام ، جماعت کو اپنا نورانی دیدار نصیب فرما۔


بچپن یہ سے میرے لیئے یہ ایک سمجھ میں نہ آنے والی بات تھی کہ ایک طرف تو ہم آغاخانی اپنی خود ساختہ نماز کے شروع میں کہتے :


اِيّاك نعبُدُ و اِيّاك نستَعين


ترجمہ: (اے اللہ) ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور صرف تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں۔



پھر ہم اپنی خود ساختہ نماز کی چھ رکعتوں (ہر رکعت کو ایک "پاٹھ" کہا جاتا ہے) میں ، ہر پاٹھ کے آخر میں ،آغاخان کی تصویر کے آگے سجدہ کرتے ہوئے کہتے:


اللهم لك سُجودي و طاعتي


ترجمہ: (اے اللہ) میرا سجدہ اور میرے تعبداری صرف تیرے ہی لیئے ہے۔


آپ خود ہی بتایئے کہ یہ کیسا ظلم ہے کہ آغاخانیت کی خود ساختہ نماز میں، دانستہ طور پر، اللہ اور آغاخان کے درمیان فرق بچپن ہی سے مٹایا جاتا ہے، حتیٰ کہ ہر اسماعیلی آغاخانی کے ذہن میں آغاخان اور خالقِ کائنات کے درمیان فرق کرنا، نا ممکن ہو جاتا ہے۔


آغاخانی جماعت خانوں میں خاص مجالس ہوتی ہیں، اور ہر مجلس کی ممبرشپ کے الگ پیسے ہوتے ہیں۔ ان میں دو مشہور مجالس " چاند رات کی مجلس" اور "بیت الخیال کی مجلس" ہیں، جن کے زیادہ تر اسماعیلی ممبر ہیں۔


چاند رات اور بیت الخیال کی مجالس میں جماعت خانوں میں "مشکل آسان" کے نام پر خاص میزیں لگائی جاتی ہیں، جن پر باقائدہ پیسے دے کر، زندہ اور وفات شدہ (جسے "روحانی" کہا جاتا ہے) لوگوں کی مشکل آسان کے پیسے لیئے جاتے ہیں۔ 2007 میں امریکہ کے فینکس جماعت خانے میں مشکل آسان کے ریٹ 6 ڈالر فی کس تھے۔ میں نے خود 12 ڈالر اپنے ماں باپ کی مشکل آسان کے لیئے دیئے تھے، جس کے بدلے میں مقررہ شخص نے آغاخان سے میرے والدین کے حق میں دعا کی۔ آج بھی جب میں یہ واقعہ یاد کرتا ہوں تو مجھے اپنی بے وقوفی پر ہنسی تو آتی ہے ، مگر دوسروں پر افسوس بھی ہوتا ہے کہ نہ جانے کب تک یہ لوگ سوچے سمجھے بغیر اسی چکر میں پھنسے رہیں گے،اور کب حق کی تلاش کریں گے۔


(باقی آئندہ، حصہ دوئم میں)

آغاخانیت کا آغاز - اسماعیلی اور بوہری میں کیا فرق ہے؟


بوہری اور آغا خانی دونوں کی اصل ایک ہے۔ امام جعفر صادق…(ع) کے کئی بیٹے تھے جن میں سب سے بڑے حضرت اسماعیل تھے۔ امام صادق(ع) کے زمانے میں ہی کچھ لوگوں نے تصوّر کرنا شروع کر دیا تھا کہ امام صادق(ع) کے بعد اسماعیل ہی امام ہوں گے۔ لیکن حضرت اسماعیل کی وفات امام صادق(ع) کی زندگی میں ہی ہو گئی، امام صادق(ع) بعض لوگوں کے اس عقیدے کو جانتے تھے کہ اسماعیل کو ہی وہ امام سمجھتے ہیں، چنانچہ امام(ع) نے اسماعیل کی وفات کے بعد ان کا جنازہ لوگوں کو دکھایا اور لوگوں کی معیت میں ہی ان کی تجہیز و تکفین کی کئی تاکہ کوئی اسماعیل کی وفات سے انکار نہ کر سکے۔

جب امام صادق(ع) کی شہادت ہوئی تو ان کی وصیّت کے مطابق اکثر شیعوں نے امام کاظم(ع) کو امام مان لیا، لیکن ایک جماعت نے کہا کہ اسماعیل بڑے بیٹے تھے، اب وہ نہیں تو ان کی اولاد میں امامت رہنی چاھئے، یہ لوگ اسماعیلی کہلائے۔ کچھ لوگوں امام صادق(ع) کے ایک اور بیٹے عبداللہ افطح کو امام مانا، یہ لوگ فطحی کہلائے۔

جن لوگوں نے امام جعفر صادق(ع) کی شہادت کے بعد امامت کو حضرت اسماعیل کی نسل میں مان لیا تو آگے چل کر ایک وقت آیا جب ان اسماعیل کی اولاد میں سے ایک شخص مہدی کو مصر میں خلافت ملی جہاں اس نے خلافت فاطمی کی بنیاد رکھی۔ یہ خلفاء بہت شان و شوکت سے وہاں حکمرانی کرتے رہے، قاہرہ شہر اور جامعۃ الازھر کی بنیاد انہی اسماعیلی خلفاء نے رکھی۔ اور اس وقت تک یہ باعمل قسم کے شیعہ تھے لیکن اثنا عشری نہ تھے۔

ایک نسل میں ان کے ہاں خلافت پر جھگڑا ہوا، مستعلی اور نزار دو بھائی تھے، مستعلی کو خلافت ملی۔ لیکن لوگوں میں دو گروہ ہوئے، ایک نے مستعلی کو امام مان لیا اور ایک گروہ نے نزار کو مان لیا۔ مستعلی کو ماننے والوں کو مستعلیہ کہا جاتا ہے جو آج کل کے بوھرہ ہیں اور نزار کے ماننے والوں کو نزاریہ کہا جاتا ہے جو آجکل کے آغا خانی ہیں۔ لیکن چونکہ خلافت مستعلی کو ملی تو نزاری فرار ہو کر ایران آئے اور وہاں قزوین نامی شہر کو اپنا ٹھکانہ بنا لیا جہاں کئی برس تک جاہ و حشم کے ساتھ انہوں نے حکمرانی کی۔ حسن بن صباح کے دور میں ان کو عروج حاصل ہوا اور ان کی فدائین کی تحریک بہت کامیاب ہوئی اور پوری سرزمین ایران میں اپنی دہشت بٹھا دی۔ بعد میں ان کا امام “حسن علی ذکرہ السّلام” آیا جس نے ظاہری شریعت ختم کردی اور صرف باطنی شریعت برقرار رکھی، کہا جاتا ہے کہ 19 یا 21 رمضان تھی جب اس امام نے ظاہری شریعت ہٹائی تھی، انہوں نے اپنے امام کے حکم پر اپنے روزے توڑے اور کہنے والے کہتے ہیں کہ انہوں نے شراب سے افطار کیا۔ کیونکہ ان کے امام نے یہی حکم دیا تھا کہ ظاہر شریعت پر عمل کرنے کی ضرورت نہیں، اپنے باطن کی تربیت کرو یہی کافی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آغا خانیوں کو فرقۂ باطنیہ بھی کہا جاتا ہے۔

آغا خانی ایک طویل عرصے تک ایران میں مقیم رہے، ان کے امام کو “آغا خان” کا لقب بھی ایران کے قاجاری حکمران نے دیا تھا۔ شاہ ایران نے آغا خان کو کرمان کے قریب “محلاّت” نامی جگہ پر ایک وسیع جاگیر بھی عطا کر رکھی تھی جہاں آغاخان مکمّل داخلی خودمختاری کے ساتھ حکومتت کرتا تھا، یہی وجہ ہے کہ ان کے اس امام کو “آغا خان محلاّتی” بھی کہا جاتا ہے۔ لیکن انگریزوں کی تحریک پر آغا خان اوّل نے ایرانی قاجاری سلطنت کے خلاف بغاوت کر دی لیکن جب اس کو شکست ہوئی تو بھاگ کر ہندوستان میں پہلے سندھ اور پھر بمبئی شفٹ ہوا۔ انگریزوں نے ان کو “سر” کا خطاب دیا اور بہت عزّت و تکریم کی۔ ان کی وفات ہندوستان میں ہی ہوئی اور ان کے بعد امامت ان کے بیٹے کو ملی جو تحریک پاکستان کے ابتدائی رہنماؤں میں سے رہی ہے۔ صدرالدّین آغا خان کی وفات کے بعد ان کے بیٹے کی موجودگی میں ہی انہوں نے اپنے پوتے “پرنس کریم” کو جانشین بنایا جن کی والدہ یورپی تھیں اور مغربی بودو باش رکھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اب اسماعیلیوں کی امامت کا مرکز “محلاّت، کرمان” سے نکل کر “بمبئی ہندوستان” آیا اور وہاں سے اب مغرب منقتل ہو گیا۔

دوسری طرف بوہریوں کی خلافت ایک طویل عرصے تک مصر میں رہی لیکن صلیبی جنگوں کے زمانے میں صلاح الدّین ایّوبی نے پے در پے حملوں کے بعد اس شیعہ اسماعیلی حکومت کو ختم کر دیا۔ جب مصر میں بوہریوں کی امامت ختم ہوئی تو انہوں نے ہندوستان و یمن کو اپنا مرکز بنالیا البتہ یہ لوگ باعمل مسلمان ہیں اور پابندی سے نماز وغیرہ پڑھتے ہیں۔ ان کی امامت کا سلسلہ خلافت فاطمی کے ختم ہوتے ہی ختم ہو چکا ہے، البتہ ان کے ہاں داعیوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ موجودہ برھان الدّین ان کے داعی ہیں جن کا انتقال پچھلے دنوں ہوا۔

آگے چل کر بوہریوں کے ہاں بھی دو فرقے ہوئے؛ 1) داؤدی بوہرہ اور 2) سلیمانی بوہرہ۔ ان کا اختلاف محض علاقائی ہے۔ داؤدی بوہروں کے داعی ہندوستانی ہوتے ہیں اور گجرات کے شہر سورت میں ان کا مرکز ہے جبکہ سلیمانی بوہروں کے داعی یمن میں ہیں اور لاکھوں کی تعداد میں ہندوستان کے جنوبی علاقوں میں بھی ہیں۔ البتہ پاکستان میں بھی سلیمانی بوہروں کی ایک قلیل تعداد ہے۔ داؤدی بوہرہ کے لوگ بہت آرام سے پہچانے جاتے ہیں کیونکہ ان کے مرد مخصوص لباس پہنتے ہیں اور ان کی عورتیں ایک مخصوص حجاب کرتی ہیں، جبکہ سلیمانی بوہرہ پہچانے نہیں جاتے کیونکہ ان کا کوئی مخصوص لباس نہیں ہے۔

جہاں تک ان کے اسلام کا تعلّق ہے تو بوہریوں کے مسلمان ہونے میں کوئی شبہ نہیں جب تک کہ یہ کسی امام کو گالی نہ دیں۔ کہتے ہیں کہ ایک زمانے تک یہ امام موسی کاظم(ع) کو گالیاں دیتے تھے جو بقول ان کے امامت کو غصب کر بیٹھے (نعوذباللہ)۔ لیکن یہ روش انہوں نے چھوڑ دی تبھی آیت اللہ ابوالحسن اصفہانی کے دور میں ان کو نجف و کربلا زیارت کی اجازت دی گئی۔ وہاں موجود ضریحوں اور حرم کی تعمیر اور چاندی سونے میں بوہریوں نے کافی مدد کی۔ بوہری اب بھی جوق در جوق کربلا اور نجف زیارت کے لئے جاتے ہیں اور شیعہ مراکز کے دروازے بوہریوں کے لئے کھلے ہیں۔

اس لئے مشکوک ہے کیونکہ یہ ضروریات دین میں سے کئی چیزوں کے منکر ہیں۔ جو چیز ان کے اسلام کو مشکوک بناتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ “حلول” کے عقیدے کو مانتے ہیں۔ ان کے مطابق اللہ کا نور علی میں حلول کر گیا اور علی کا نور ان کے ہر امام میں آتا رہا، ان کے حساب سے پرنس کریم آغا خان اس وقت کا علی ہے، اور جب یہ لوگ “یاعلی مدد” کہتے ہیں تو ان کی مراد ہماری طرح مولا علی نہیں ہوتے بلکہ پرنس کریم آغا خان ہوتے ہیں۔

آغا خانیوں میں ایک اور خرابی یہ ہے کہ وہ “معاد جسمانی” کے منکر ہیں یعنی ان کے نزدیک میدان حشر، پل صراط، جنّت و جہنّم کا کوئی ظاہری وجود نہیں بلکہ یہ کنایہ ہے۔ اور ان کا عقیدہ ہے کہ ہم اس جسم کے ساتھ حشر کے دن نہیں اٹھائے جائیں گے۔ “معاد جسمانی” ہماری ضروریات دین میں سے ہے اور جو اس کا قائل نہیں تو اس کے اسلام پر حرف آتا ہے۔

آغا خان کی دنیائے اسلام کے لیئے خدمات

حال ہی میں اسماعیلوں کی طرف سے مغربی دنیا کے مسلمانوں کو، اور دنیائے اسلام کے لبرل مسلمانوں کو ایک پروپیگنڈا کے ذریئے ،آغا خان کی سخاوت کا قائل کرنے کی ، اور آغا خان کے اقتصادی منصوبوں کی افادیت کو اجاگر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔

حقیقت اس سے بہت دور ہے۔ یہ تمام ادارے منافع بخش ادارے ہیں۔ آغا خان کے ان مہنگے، منافع بخش اور نام نہاد عوامی فلاح و بہبودی اداروں کے سرفہرست آغا خان ہسپتال ہے، جو کہ صرف مہنگا ہی نہیں ، بلکہ شہر کا مہنگا ترین اسپتال ہے ۔ اس کی برانچ کراچی کے علاوہ نیروبی، کینیا میں بھی موجود ہے ، اور وہاں بھی یہ ہسپتال شہر کا مہنگا ترین اسپتال ہوتے ہوئے غریب تو کیا، ایک متوسط آمدنی والے فرد کے لیئے بھی مالی پھنچ سے دور ہے۔ ان دونوں شہروں میں اس ہسپتال کے خلاف کئی طبی غفلت کے مقدمات عدالات میں درج ہیں ، اور متاثر ین کی رودادیں انٹرنیٹ پر دیکھنے کیلئے عام دستیاب ہیں۔

کابل (افغانستان) میں آغاخان کی تعمیر شدہ نئی سیرینا ہوٹل میں ایک عام کمرے کا کرایہ 250 ڈالر یومیہ ہے ، جو کہ ایک متوسط درجے کے افغانی شہری کی سالانہ تنخواہ ہے، جس میں کابل کے سیرینا ہوٹل کے ملازمین شامل ہیں ۔ دنیا بھر میں سیرینا ہوٹلوں میں شراب عام فروخت کی جاتی ہے، لیکن یہ ایک الگ موضوع ہے اور میرے ایک الگ کالم میں اس پر خطاب کیا گیا ہے۔

آغا خان کے ادارے غربت کے خاتمے پر توجہ تومرکوز کرتے ہیں، لیکن یہ پروگرام سختی سے، صرف اور صرف اسماعیلی کمیونٹی کے لیئے ہوتے ہیں۔ جن کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ اسماعیلی اپنے پیروں پر کھڑے ہوں، کیونکہ ہر اسماعیلی اپنی کمائی میں سے ساڑھے بارہ فی صد، ہر مہینے، آغاخان کو دیتا ہے۔

اسماعیلیوں کی جانب سے یہ 12.5 فی صد کی مہانہ ادائیگی، 'دسوند' کہلاتی ہے جس کا مطلب یہ ہے 'دسواں حصہ'۔ جدید اسماعیلی مشنریوں کا دعوی ہے کہ یہ دسوند، زکوٰۃ (2.5٪) اور عشر (10%) کا ایک مجموعہ ہے. تاہم یہ سراسر جھوٹ ہے کیونکہ زکوٰۃ کبھی بھی مہانہ کمائی پر ادا نہیں کی جاتی ، بلکہ اخراجات کے بعد، بارہ مہینے کی غیر استعمال شدہ دولت پر ، زکوٰۃ کی شرع کے مطابق ادا کی جاتی ہے ۔یکم مارچ 1936 کی شیکاگو ٹربیون (Chicago Tribune) میں شائع شدہ ایک خبر کے مطابق ،دسوند کے زرائع سےآغا خان کی سالانہ آمدنی تین ملین ڈالر ($3،000،000) تھی جو کہ افراط زر کی شرح کی ایڈجسٹمنٹ کے بعد آج کے باون ملین ڈالر($52،485،217) ہیں۔ 

بہرحال، دسوند کی تاریخ اسماعیلیوں کے مخصوص ' گنانوں' میں پائی جاتی ہے جو اسماعیلیوں کے پیروں نے پچھلے سو سے دو سو سالوں میں گجراتی زبان میں لکھے ہیں۔ اس زمانے میں اسماعیلی ہر ماہ دسوند (دسواں حصہ) اپنے امام کو دیتے تھے اور ڈھائی فی صد اپنے پیر کو دیتے تھے جو کے اسلام کے برخلاف ہے۔ تاہم جب آغاخان سوئم اقتدار میں آیا تو اس نے امام اور پیر کے دونوں عہدوں کا دعوی کیا ۔ اس زمانے میں اسماعیلی امام کو روحانی ماں ،اور پیر کو روحانی باپ کہتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ معروف اسماعیلی مشنری مثال کے طور پر کمال الدین اور ابو علی عبد العزیز ،آغا خان کو اپنی تقریروں اور واعظوں میں ،روحانی ماں باپ کی نام سے پکارتے ہیں۔ ان تمام تاریخی حقائق کو موجودہ اسماعیلوں سے مکمل طور پر چھپایا جاتا ہے اور سکھایا جاتا ہے کہ دسوند کی شرع ، صرف زکوٰۃ اور عشر کےبرابر ہوتی ہے۔

یہ صرف دسوند بمقابلہ زکوٰۃ کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ یہ نماز بمقابلہ اسماعیلی نماز کا مسئلہ بھی ہے، حج بمقابلہ آغاخان کے دیدار کا مسئلہ بھی ہے، رمضان المبارک کے روزوں کے رد کا بھی ہے، یہ تمام مسائل آغاخانیت اور اسلام کو ایک دوسرے سے میلوں دور لا کر کھڑا کر دیتے ہیں۔ شیعہ اور سنی سمیت تمام مسلمان کلمہ، نماز، زکوٰۃ ، حج اور روزہ کے پانچ بنیادی ستونوں پر ایمان رکھتے ہیں اور ان پر عمل کرتے ہیں جبکہ اسماعیلی آ کر ایک نیا دعویٰ کرتے ہیں کہ نماز کا مطلب ضروری نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر نماز ادا کی جائے، پرنس کریم آغا خان نے الگ طریقہ بتایا ، ہم اس طریقے سے نماز پڑہ لیں گے۔ روزہ کھانے اور پینے سے بچنے کا نام نہیں، روزہ تو دل کا ہوتا ہے۔ زکوٰۃ غریبوں کو سالانہ اضافی مال پر نہیں، بلکہ ماہانہ آمدنی پر امام (کریم آغا خان) کو دی جاتی ہے، وہ جہاں چاہیں خرچ کریں۔ اور جہاں تک حج کا تعلق ہے، حج نام ہے کریم آغا خان کواپنی آنکھوں سے دیکھنے کا۔

ان عقائد سے واضح ہے کہ مذہبی سطح پر، اسماعیلوں کے پاس کھڑے ہونے کے لئے پاؤں نہیں ہیں، جیسا کہ مندرجہ بالا عقائد ، اسلام کے قریب بھی نہیں۔ اب آغا خانی، آغاخان ہسپتال کا اور دوسرے انتہائی منافع بخش اداروں کا حوالہ دیتے ہیں جو صرف مھنگے منافع بخش کاروبار ہیں ۔ اصل میں آغا خان کے کاروبار کی فہرست چھوٹی نہیں ، بلکہ یہ ایک بڑی فہرست ہے۔ آغا خان نے ان تمام اداروں کو AKFED یا 'آغا خان فنڈ برائے اقتصادی ترقی 'کے زیرِ انتظام رکھا ہے۔ AKFED ایک نجی ہولڈنگ کمپنی (Private Holding Company) ہے اور تمام کاروباری اداروں کو AKFED کے زیرِ انتظام رکھنے کا مقصد، منافع کو خفیہ رکھتے ہوئے عوام کی نظروں سے اوجھل کرنا ہے۔ AKFED کے زیرِ انتظام آغاخان کے کئی کاروبار ہیں جن میں مندرجہ ذیل بینک، انشورنس کمپنیاں، موبائل فون کمپنیاں ، ایئر لائنز اور ہوٹل شامل ہیں:

1۔ بینک اور انشورنس کمپنیاں: حبیب بینک لمیٹڈ (پاکستان)، ترقیاتی کریڈٹ بینک لمیٹڈ (بھارت)، کارغز سرمایہ کاری اور کریڈٹ بینک (کارغزستان)، جوبلی انشورنس (پاکستان)، جوبلی لائف انشورنس(پاکستان)، پلاٹینم جوبلی انوسٹمنٹ لمیٹڈ(بھارت)، ڈائمنڈ ٹرسٹ بینک (یوگینڈا)
2۔ ایئر لائنز: ایئر مالی(مالی)، میریڈیانا فلائی (اٹلی)، ایئر یوگینڈا (یوگینڈا)
3۔ موبائل فون کمپنیاں: روشن ٹیلی کمیونیکیشنز (افغانستان)، موانیچی مواصلات(تنزانیہ)، ٹی-سیل (تاجکستان)
4۔ ہوٹل: کابل سیرینا ہوٹل(افغانستان)، فیصل آباد سرینا ہوٹل(پاکستان)، اسلام آباد سیینا ہوٹل(پاکستان)، کوئٹہ سیرینا ہوٹل(پاکستان)، سوات سیرینا ہوٹل(پاکستان)، نروبی سیرینا ہوٹل(کینیا)، مارا سرینا سفاری لاج(کینیا)، سیرینا ماؤنٹین لاج، جھیل وکٹوریہ سیرینا ریزورٹ، سیلس وائلڈ لائف لاج، جھیل ہیراارا سفاری لاج۔
5۔ توانائی: ازوٹو توانائی(مغربی افریقہ)، پامیر توانائی (تاجکستان)

اپنے مالیاتی گوشوارے شائع نہ کرنے کی وجہ سےآغاخان فاؤنڈیشن کینیڈا (AKFC)حال ہی میں زیرِ تحقیقات تھی۔ اس ادارےنے 2013 میں 41.9 ملین ڈالر کی مالی امداد کینیڈا کی حکومت سے حاصل کی اور اس رقم کو خرچ نہیں کیا۔حقیقت میں، یہ پتہ چلا کہ آغاخان فاؤنڈیشن کینیڈا نے اتنی مالیاتی امداد جمع کر لی تھی کہ وہ اگلے 8 سال تک بغیر ایک پیسہ کمائے اپنی اخراجات اٹھانے کے قابل تھی۔ یہ خبر معتبر اخبارات 'ٹورنٹو اسٹار' اور 'بلومبرگ' نے شائع کی۔

کینیڈا کےموجودہ وزیراعظم کے ساتھ بھی آغا خان کا تعلق حال ہی میں زیربحث تھا، کیونکہ ایک طرف تو کینیڈا کی حکومت سے آغاخان نے 2004 سے لے کر اب تک 310 ملین ڈالر لیئے اور دوسری طرف کینیڈا کےموجودہ وزیراعظم کو ان کے اہل و ایال سمیت آغاخان نے اپنے ذاتی جزیرے پر چھٹیاں گزارنے کے لیئے مدوع کرلیا۔ کینیڈا کے شفافیت کے اداروں نے اس دعوت کو شدید تشویش کی نظر سے دیکھا اور اس دعوت کو رشوت دینے کے برابر ٹھرایا۔ اس تفتیش کے دوران چند سنسنی خیز انکشافات بھی سامنے آئے جن میں سے ایک یہ بات تھی کہ آغاخان کا وہ ذاتی جزیرہ،آغاخان کے اپنے نام نہیں ۔بلکہ اس جزیرے کی ملکیت آفشور کمپنوں کے جال میں چھپی ہوئی ہے۔ یہی حال اس ہیلی کاپٹر کا تھا جس میں کینیڈا کے وزیراعظم نے آغاخان کے جزیرے تک کا سفر کیا۔ ان آفشور کمپنوں کی تفسیلات پنامالیکس (Panama Leaks ) میں ظاہر ہوئیں۔ اور تو اور، جب چند مہینوں بعد پیراڈائز پیپرز(Paradise Papers)منظرِعام پر آئے تو یہ بات بھی ظاہر ہوئی کہ اپنی تیز رفتار یاٹ کشتیاں (yacht) پوشیدہ رکھنے کے لیئے آغاخان نے براوہ رومیو (Bravo Romeo ) کے نام سے ایک اور آفشور کمپنی قائم کر رکھی ہے۔ واضح رہے کہ آغاخان کی صرف ایک تیز رفتار یاٹ کشتی (yacht) کی قیمت 200 ملین پاونڈ ہے۔

آغا خان کو کینیڈا میں اس وقت بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا کیا جب انہوں نے 'گلوبل سینٹر فار پلورل ازم' بنانے کے لیئے کینیڈین حکومت کے ٹیکس دہندگان کے پیسہ سے 30 ملین ڈالر لے لیئے۔ اس سینٹر کے دفتر کے لیئے انہوں نے صرف ایک ڈالر کے بدلے 99 سال کے لیئے ایک قیمتی عمارت حکومت سے 'کرائے' پر لے لی، اور اوپر سے یہ اجازت بھی لے لی کہ اس عمارت کی آدھی جگہ وہ دوسری کمپنیوں کو مارکیٹ کے نرخوں کے بطابق ذیلی کرائے پر دیں گے۔ اس سینٹر کا کام سال میں صرف اور صرف دو تقریبات کرنا، اور ریسرچ پیپر شائع کرنا ہے۔

آغا خان اور اسماعیلی کمیونٹی کے لوگ اس وقت ت بھی زیرِحقیقات تھے، جب امریکی ایف۔ بی۔ آئی (FBI) نے پیسے کی سمگلنگ (Money Laundering) کے جرم میں اسماعیلی کمیونٹی کے ارکان کو امریکہ - کینیڈا کے بارڈر پر دسوند کی رقم (جی ہاں، وہی 12.5 فیصد) کو سمگل کرتے ہوئے پکڑ لیا گیا۔ آغاخان کی خوش قسمتی تھی کہ ملوث اسماعیلوں نے اپنے آپ خود کو قصوروار تسلیم کر کے، قید اور سزا قبول کر لی۔ اس پورے واقعہ کو کینیڈا کےمعتبر ٹی وی چینل سی-بی-سی (CBC) نے ایک دستاویزی فلم 'خدا کا پیسہ' (God’s Money) میں فلم بند کیا۔ یہ فلم انٹرنیٹ پر، یوٹیوب (YouTube) پر دیکھی جا سکتی ہے۔

صرف مالی خردبرد نہیں، بلکہ یہ بات بھی منظرِعام پر آ چکی ہے کہ آغاخان نے تاجکستان میں تاجک علیحدگی پسند دہشت گردوں کو، تاجک حکومت کے خلاف مالی امداد فراہم کی۔ اس خبر کو پریس ٹی- وی نے'اسماعیلوں کے لئے نئے ملک کا منصوبہ ' کے نام سےشائع کیا ۔

جہاں تک ذاتی زندگی کا تعلق ہے، آغاخان شادی صرف غیر مسلم مغربی سُپر ماڈلز کے ساتھ، ان کو اسلامی نام دے کر کرتے ہے۔ طلاق پر ان عورتوں کو آغآخان کی طرف سے کئی ملین ڈالر کی ادایئگی ہوتی ہے، اور یہ عورتین طلاق ہوتے ہی دوبارہ غیر مسلم ہو جاتی ہیں۔ لیکن یہ پھر ایک طویل کے موضوع ہے جس پر پھر کبھی انشاء اللہ تفصیل سے لکھوں گا۔

چاہے آپ اسماعیلی ہوں یا مسلمان، جب بھی آپ آغاخان کے ذیرِاحتمام کسی ادارے کو اپنا قیمتی وقت یا پیسا دے رہے ہوں،یہ ضرور یاد رکھیے گا کہ آ پ کا وقت اور پیسہ کس کی ملکیت بنے جا رہے ہیں۔

میں آغاخانی سے مسلمان کیسے ہوا؟ - حصہ دوئم

پچھلی پوسٹ میں، میں نے آغاخانیوں کے مشرکانہ عقیدے، یعنی بجائے اللہ کے، آغاخان دعا مانگنے پر روشنی ڈالی تھی۔ آج ایک ایسے دوسرے پہل...