بدھ، 20 مارچ، 2019

آغا خانى اسماعيلى فرقہ اور پاکستان کا تعلیمی مستقبل:

آغا خانى اسماعيلى فرقہ اور پاکستان کا تعلیمی مستقبل:

آغا خانيوں كو قومى تعليم ميں سركارى آرڈيننس(CXIV/2002)كى روسے بڑا اہم كردار سونپا جا چكا ہے اور وفاقى وزير تعليم نے كہا ہے كہ اس آرڈيننس يا فيصلہ كے بارے ميں پارليمنٹ ہى حتمى فيصلہ كرنے كى مجاز ہے-پارليمنٹ سے اس موضوع پر رائے دہى كروانے كا مقصد غالباً يہ ہے كہ يہى ايسا فورم ہے جہاں ملكى و قومى مفاد سے بالاتر ہو كر صرف سياسى گروپ بندى كى بنا پر قومى فيصلے كيے جاتے ہيں- اور مشرف حكومت اس سے قبل بهى اپنے متعدد فيصلوں كو اسى پليٹ فارم سے نافذ كرانے ميں كامياب رہى ہے-

جہاں تك امتحانى بورڈز كا تعلق ہے تو اخبارى ذرائع كے مطابق سندھ گورنمنٹ ميں آغاخانيوں كے امتحانى بورڈز كو قبول كرليا گيا ہے جبكہ پنجاب حكومت كے اختلاف كے باعث فى الوقت پرائيويٹ سكولوں، كالجوں كو اس امر كى اجازت دى گئى ہے كہ وہ آغا خاں بورڈ كے ساتھ الحاق كرسكيں- قابل غور بات يہ ہے كہ سركارى سكولوں ميں پہلے ہى تعليم كى حالت اس قدر ناگفتہ بہ ہے كہ متوسط طبقے كے لوگ بهى اپنے بچوں كو سركارى سكولوں ميں داخل نہيں كراتے- اس لحاظ سے قومى ٹيلنٹ كا اہم ترين حصہ پرائيويٹ سكولوں ميں ہى زير تعليم ہے اور اسى طبقہ كے پاس ہرقسم كے وسائل بهى ميسر ہيں- ايسے حالات ميں پرائيويٹ سكولوں كا داخلى وجوہ كى بناپر ہى ممتاز حيثيت حاصل كرلينا، پهر آغا خان بورڈ كے ذريعے ان كو قومى او رعالمى سطح پرہر قسم كى پذيرائى ميسر آجانا ايسے حقائق ہيں جن سے مستقبل قريب ميں پاكستان كا تعليمى وفكرى منظرنامہ بخوبى سمجا جاسكتا ہے-

اگر خدانخواستہ اس حكومت كو مزيد چند سال گزارنے كا موقع مل گيا تو سركارى سكولوں كو قريب قريب وہى مقام حاصل ہوجائے گا جو اس وقت دينى مدارس كوحاصل ہے- جس طرح مسلمانوں كے روايتى نظامِ تعليم 'دينى مدارس' كو انگريز سركار نے ديس نكالا دے كر نظامِ تعليم سے اس كا اُصولى تعلق ہى منقطع كرديا، ايسے ہى موجودہ سركارى سكولوں ...جو بچى كچىن اسلامى ثقافت كو تحفظ مياے كررہے ... كو بهى ثانوى درجے كے تعليمى ادارے تو پلے ہى بنايا جاچكا ہے- امريكى سركار كے مشوروں پر كار بند رہے توآہہتك آہہتے ان كا قومى كردار كم سے كم تر ہوتا جائے گا،يہ بهى ممكن ہے كہ كچھ عرصے كے بعد مدارس كى طرح اُنيںا ملازمت كا تحفظ بهى حاصل نہ رہے- تعليم كى اہميت صاحبانِ فكر ونظر سے مخفى نيںس اور اس سارى صورتحال سے محب ِوطن حلقے شديد پريشانى واضطراب كا شكار ہيں!!

آغا خانيوں كو امريكہ باردر نے يہ كردار كيونكر سونپا ہے، اس كے لئے ضرور ى ہے كہ ان كى تاريخ كے ساتھ ان كے عقائد سے بهى واقفتط حاصل كى جائے- جاپں تك پاكستان ميں ان كى سرگرميوں كا تعلق ہے، اس بارے ميں ماہنامہ 'محدث' كے اپريل 2004ء كے شمارے كے علاوہ ، ماہنامہ 'آبِ حيات' لاہور كا شمارئہ فرورى 2005ء اور ماہنامہ 'ترجمان القرآن'لاہور كا شمارئہ ستمبر2004ء كا مطالعہ مفيد ہوگا- ايسے ہى آغا خانى بورڈ كے بارے ميں تنظيم اساتذہ، پاكستان كا شائع كردہ 'قرطاسِ ابيض' كا مطالعہ بهى چشم كشا ہے- ہفت روزہ 'تكبرس' كراچى بهى 90 كى دهائى ميں ان كى ملك دشمن سرگرميوں پر ايك ضخيم اشاعت خاص پيش كرچكا ہے، جسے آغاخانيوں نے سيل پوائنٹس سے اُٹهاكر تلف كرنے كى كوششيں كى تهيں-ماہنامہ الحق، اكوڑہ خٹك ميں 1987ء كے دوران مولانا عبدر اللہ چترالى كے شمالى علاقہ جات ميں آغا خانيوں كى سرگرميوں كے بارے ميں بعض مضامين بهى اس سلسلے ميں خصوصى مطالعہ كے قابل ہيں-

تاريخى طور پر 1858ء ميں ممبئى كى انگريز عدالت كے فيصلہ كے ذريعے آغا خانيوں كو برصغير ميں اسماعيليوں كا روحانى پيشوا قرار ديا گيا تها، ايسے ہى انگريز گورنرجنرل ہند نے انگريز سركار كى خدمات كے صلے ميں انيںے 'پرنس'،' سر' اور 'ہزہائى نس' كا خطاب عطا كيا تها- يورپى ممالك سے ان كے تعلقات اس قدر قوى ہيں كہ وہاں انيں VVIP پروٹوكول ديا جاتا ہے اور پاكستان ميں تو ان كا استقبال صدرِ مملكت كے درجے سے كم نيںن ہوتا-مغربى تنظيميں مثلاً CIDA، يوايس ايڈ، اقوامِ متحدہ كى يونى سيف وغيرہ اپنى امداد آغا خانيوں كے ہى حوالے كرتى ہيں اور وہ اپنے مذہبى عقائد كے فروغ كے لئے انيںل بالواسطہ استعمال كرتے ہيں- اين جى اوز كو منظم كرنے كے لئے آغا خان فاونڈيشن عالمى اداروں كى مدد سے 'اين جى او ريسورس سنٹر' كے نام سے ايك ادارہ چلا رہى ہے جا ں اسى نام سے ميگزين بهى شائع ہوتا ہے-

جولائى 1996ء كے ماہنامہ 'محدث' ميں آغا خانيوں كے عقائد كے تجزيے پر مبنى ايك مضمون شائع ہوا تها، موجودہ حالات ميں اس امر كى شديد ضرورت محسوس كى جارہى ہے كہ ا س فرقہ كے عقائد سے پاكستانى عوام كو تفصيلاً متعارف كرايا جائے، چنانچہ وہ مضمون قند مكرر كے طور پر دوبارہ شائع كيا جارہاہے تاكہ عوام كو يہ اندازہ ہوسكے كہ اس ملك كى تعليمى قسمت كے فيصلہ كن لوگوں كے ہاتھ ميں ديا گيا ہے- علم وتعلّم سے وابستہ حضرات جانتے ہيں كہ امتحانى بورڈ صرف امتحانى بورڈ ہى نيںو ہوتا بلكہ جس نصاب كى بنا پر وہ اُميدوار كا امتحان ليتا ہے، اس كو متعين كرنے كے اختيار بهى اس كے پاس ہى ہوتے ہيں-

زير نظر مضمون 'اسماعيليہ' كے تناظر ميں لكها گيا ہے جسے معروف اہل علم، كثير كتب كے مصنف اور مقبول تفسير تيسير القرآن كے مصنف مولانا عبد الرحمن كيلانى نے تحرير كيا ہے- آئندہ صفحات ميں آپ يہ مضمون ملاحظہ كرسكتے ہيں- البتہ اس مضمون ميں اس امر كى وضاحت موجود نيںا ہے كہ آغا خانى اوراسماعور ں كا آپس ميں كيا تعلق ہے؟ يوں تو زير نظر مضمون ميں درج تمام عقائد كے حوالے آغا خانيوں كے زير اہتمام شائع ہونے والى مستند كتب سے ديے گئے ہيں، جن سے ان كا باہمى تعلق از خود نكهر جاتاہے ، اس كے باوجود ذيل ميں اس تعلق پر مختصر تفصيل پيش خدمت ہے :

'اسماعيلى' ايك باطنى فرقہ ہے جو امام اسمٰعيل بن جعفر الصادق كے نام سے منسوب ہے-جو حيثيت اہل السنہ والجماعہ كے ہاں قاديانيوں كى ہے كہ وہ اُنيںا غير مسلم قرار ديتے ہيں ، ايسے ہى شيعہ كے ہاں يىث حيثيت اسماعيليوں كو حاصل ہے حتىٰ كہ اثنا عشرى شيعہ بهى ان كے كافر ہونے كا عقيدہ ركهتے ہيں- بظاہريہ اہل بيت كى محبت كا دم بهرتے ہيں ليكن درحقيقت اسلام كے مسلمہ عقائد كو مندےم كرنا ان كا وطيرہ ہے- عراق ميں اس فرقہ كى نشو ونما ہوئى جس كے بعد يہ خراسان ، ايران، ہندوستان اور تركستان كى طرف پهيل گئے- ان كے عقائد ميں مجوسى افكار كے علاوہ ہندو نظريات، خصوصاً برہمنوں كے اعتقادات بكثرت پائے جاتے ہيں-حتىٰ كہ انىط كے گروہ قرامطہ كے ہاں مزدك اور زرتشت مذہب كے عقائد بهى موجود ہيں-

اسماعيليوں كے 7 بڑے گروہ ہيں :
(1) اسماعيلى قرامطه:

اہواز كے باشندے حمدان بن اشعث كى طرف يہ گروہ منسوب ہے جو بعدازاں كوفہ ميں رہائش پذير ہوا- مجوسى افكار كو اس نے اسلام ميں داخل كيا، خفيہ فوج قائم كى اور بزورِ بازو اسلامى حكومت پر قبضہ كے لئے سرگرم رہا- يہ گروہ يوں تو اسماعيل بن جعفر الصادق كى طرف منسوب ہے ليكن دراصل الحاد، اباحيت پسندى اور اسلامى اخلاق كو مندىم كرنے كے لئے مصروفِ كار ہے- قرامطہ كا اثر ورسوخ زيادہ تر شام اورعراق ميں رہا ہے-

(2) فاطمى اسماعيلى :

يہ اسماعيلى فرقے كا بنيادى گرہ ہے- اس گروہ كے حسن بن حوشب نے يمن ميں 266ہ ميں فاطمى سلطنت قائم كى-اسى فرقے كے عبيد اللہ نے تيونس ميں 297ھ ميں فاطمى سلطنت كو قائم كيا- اس كے جانشينوں ميں معز لدين اللہ نے 361ھ ميں مصر كو فتح كركے فاطمى سلطنت ميں شامل كرليا، 487 ھ تك ان كى حكومت قائم رہى-پهر انىم فاطميوں كے ذيلى گروہ مستعليفاطميوں نے 555ھ تك مصر ، حجازاور يمن پر حكومت كى- حتىٰ كہ سلطان صلاح الدين ايوبى نے 555ھ ميں مصر كو ان سے آزاد كرايا-

(3) حشيشى اسماعيلى :

حسن بن صباح (م1124ء) اس كا بانى تها- يہ لوگ حشيش كو كثرت سے استعمال كرتے- آلَمُوْت كے نام سے قلعہ قائم كركے حسن بن صباح نے اس ميں دنياوى جنت قائم كى اور مصر كى فاطمى سطنت پر قابو پانے كے لئے 525ھ ميں اپنے فدائيوں كے ذريعے مستعلى كے بيٹے آخركو اس كے دونوں بيٹوں سميت قتل كراديا-اس كے جانشين ركن الدين خورشا كى حكومت قلعہ پر اس وقت تك قائم رہى جب تك منگول جنگجو ہلاكو خان نے اس پر قبضہ نہ كرليا، اس كے بعد يہ اسماعيلى دنيا بهر ميں پهيل گئے اور اب تك دنيا كے مختلف خطوں ميں پائے جاتے ہيں-

(4) شامى اسماعيلى :

يہ فاطميوں كا ذيلى گروہ 'نزارى' ہيں -اُنيں كوئى بڑى سلطنت قائم كرنے كا موقع نہ مل سكا، ليكن اپنے علاقوں اور محلوں ميں اپنے عقائد كا پرچار كرتے رہے- قدموس، مصياف، بانياس، خوابى اور كفش كے علاوہ منطقة سلمية ميں يہ ابهى تك پائے جاتے ہيں- ان كى اہم شخصيت راشد الدين سنان ہے، جس كا لقب شيخ الجيلهے- يہ اپنے عقائد وتصرفات ميں حسن بن صباح سے ملتا جلتا شخص تها-اس نے سنانى مذہب كى بنا ڈالى اور اسماعيلى عقائد ميں 'عقيدہ تناسخ' كا بهى اضافہ كيا-

(5)بوهره اسماعيلى:

يہ فاطمى اسماعيليوں كا ذيلى گروہ مستعلی ہيں، اِنونں نے سياست كو چهوڑ كر تجارت ميں زيادہ دلچسپى لى- يمن ميں قائم قديم اسماعيلى حكومت (266ھ) سے ان كا سلسلہ چلتا ہے- يمن سے برصغير پاك وہند ميں داخل ہوئے- ہندوؤں سے بكثرت ميل جول اختيار كيا- 'بوہرہ' ہندى لفظ ہے جس كا معنى تاجر ہے- ان كے دوگروہ ہيں؛ داوٴدى بوہرے: يہ زيادہ تر ہندو پاك ميں پائے جاتے ہيں اور ان كا پيشوا ممبئى ميں قيام كرتا ہے-

سليمانى بوہرے: يہ زيادہ يمن ميں ہيں، اور ان كا پيشوا بهى يمن ميں قيام پذير ہے-

(6) آغا خانى اسماعيلى:

يہ شامى اسماعيليوں كا تسلسل ہيں- ايران ميں اُنيسويں صدى كے پلىه ثلث ميں ان كا ظونر ہوا- ان كے تين پيشوا گزر چكے ہيں :

حسن على شاہ، آغا خاں اوّل (م 1881ء) : انگريز نے اسے آغا خاں كا لقب عطا كركے ہند وپاك ميں اپنى دخل اندازى كى راہ ہموا ركرنے كے لئے افغانستان ، بعد ازاں بمبئى ميں قيام پذير كيا - كان جاتا ہے كہ سندھ پر انگريز كو حملہ كرنے كى دعوت بهى اس نے ہى دى تهى-

آغا خاں دوم، آغا على شاہ( م 1885ء) : يہ صرف 4 سال روحانى پيشوا رہا-

دوم كا بيٹا محمد حسينى، آغا خاں سوم(م1957ء) : اس نے يورپ ميں رہنے كو ترجيح دى اور دنياوى لذات وخواہشات كى پيروى كواپنا معمول بنايا-

پرنس كريم آغا خاں ، آغا خاں چہارم ( تاحال): اس نے يورپى يونيورسٹيوں ميں ہى تعليم حاصل كى- آغا خانى زيادہ تر نيروبى، دار السلام، زنجبار، مڈغا سكر،كانگو، شام اور ہند وستان كے علاوہ پاكستان كى شمالى رياستوں گلگت، چترال وغيرہ ميں پائے جاتے ہيں-كراچى ميں بهى ان كى كافى تعداد آباد ہے-

(7) واقفى اسماعيلى :

وہ لوگ جنو ں نے محمد بن اسماعيل بن جعفر كے بعد امامت كے مزيد آگے منتقل ہونے كا عقيدہ نہ ركها اور ابهى تك انىا كى واپسى كے منتظر ہيں-

يہ ہے اسماعيليوں كے 7 گروہوں كى مختصر تاريخ، چونكہ يہ تمام اماموں پر ايمان كا عقيدہ ركهتے ہيں، اسلئے امامى كهلاتے ہيں اور ان كے مذكورہ بالا اكثر گروہ امام كى شخصيت پر اختلاف كرنے كا نتيجہ ہيں- نزار اور مستعلى وغيرہ ان كے اماموں كے ہى نام ہيں-

اسماعيليوں كے عقائد كا خلاصہ

محمد بن اسماعيل بن جعفر كى نسل سے اس دو ركے امام پر ايمان لايا جائے- اصولى طور پر يہ امامت بڑے بيٹے كے حصے ميں آتى ہے، ليكن اس اُصول كى مخالفت كئى بار ہوچكى ہے-

امام معصوم ہوتا ہے اور اس معصوميت كا تصور يہ نہيں كہ وہ گناہ كا ارتكاب نہيں كرتا بلكہ يہ گناہ كى تاويل كركے اپنے عقائد كے حسب ِحال اس كى توجيہ كرليتے ہيں-

جو اسماعيلى اس حال ميں مرجائے كہ اپنے دوركے امام پر ايمان نہ ركهتاہو اور اس كى اطاعت كا اس نے پيمان نہ كيا ہو تو وہ جاہليت كى موت مرتا ہے-

ان كے نزديك امام متعدد ايسى صفات كا حامل ہوتا ہے جو مسلمانوں كے ہاں صرف اللہ ربّ العٰلمين سے مخصوص ہيں-امام باطنى علم كا بهى حامل ہوتا ہے اور ہر اسماعيلى اپنى كمائى سے اسے 5 واں حصہ ادا كرنے كا پابند ہے-

تقیہ اور اپنے نظريات كو پوشيدہ ركهنے پر يہ لوگ ايمان ركهتے ہيں اور ايسے مواقع پر يہ اُس سے كام ليتے ہيں جب ان پر حالات تنگ ہوجائيں-

امام ہى اسماعیلى دعوت كا محور ومركز ہے- اور ان كے عقائد اسى امام كے گرد گهومتے ہيں جو عقائد وہ دے ، اسے اختيار كرنا واجب ہوتاہے-

يہ امام ظاہر بهى ہوسكتاہے اور مستور بهى- اگر وہ ظاہر تو اس كى امامت كے دلائل كا ظاہر ہونا ضرورى نہيں، البتہ اگر وہ پوشيدہ ہو تو اس كے دلائل كا ظاہرہونا بہرحال ضرورى ہے

تناسخ كا عقیدہ بهى ان كے ہاں پايا جاتا ہے ، ان كے نزديك امام تمام انبيا كا اكيلا وارث ہوتا ہے ، ايسے ہى تمام ائمہ كرام كا بهى وہى وارث ہوتا ہے-

اللہ كى بيشتر صفات كے يہ لوگ منكر ہيں گويا اللہ ان كے نزديك عقل وتصور سے بالا تر شے ہے-ا ن كے عقائد كى مزيد تفصيلات كے لئے آئندہ مضمون كا مطالعہ كريں-

مذكورہ بالا معلومات ' ورلڈ اسمبلى آف مسلم يوتھ'WAMY كے سابق سيكرٹرى جنرل ڈاكٹر مانع حماد جنى كے زير نگرانى تيار كردہ 'انسائيكلو پيڈيا برائے اديان وفرق معاصرہ' سے ماخوذ ہيں- اس موضوع پر علامہ احسان الٰھى ظہير كى كتاب الإسماعيلية، پنجاب يونيورسٹى كے دائرہ معارفِ اسلاميہ ميں مادّہ 'إسماعيلية' اور برنارڈ ليوس كى كتاب أصول الإسماعيلية والفاطمية والقرمطيةكا مطالعہ مفيد ہوگا-

مذكورہ بالا تفصيلات راقم نے مولانا عبد الرحمن كيلانى كے مضمون كے آغاز ميں درج كرنے كے لئے تحريركى تهيں، ليكن طوالت كے باعث اسے ايك مستقل مضمون بناديا گيا ہے- مولانا كے مضمون كا مطالعہ اس كے بعد كرنا مفيد ہوگا- راقم كے نانا مرحوم مولانا عبد الرحمن كيلانى نے اپنے مضمون ميں جن عقائدكو بنياد بنايا ہے، اُس كے لئے اُنہوں نے بمبئى ميں اُنہى كى شائع كردہ كتب كو پيش نظر ركها ہے-يہ كتب خود آغا خانى تنظيموں نے شائع كى ہيں- اس سے بهى يہ ثابت ہوتا ہے كہ وہ خود يہى عقائد اختيار كرتے ہيں اور اِنہى پر عمل پيرا ہيں-

Source: http://magazine.mohaddis.com/shumara/77-mar2005/1369-aagha-khani-aik-ismaeeli-firqa

بدھ، 21 نومبر، 2018

میں آغاخانی سے مسلمان کیسے ہوا؟ - حصہ چہارم




میں آغاخانی سے مسلمان کیسے ہوا؟
- حصہ چہارم -
پچھلی تین پوسٹوں میں، میں نے آغاخانیوں کے آغاخان سے دعا مانگنے پر، قرآن کی تعلیمات کی عدم موجودگی پر، نماز کے عجیب و غریب طریقے پر اور آغاخان کو مہانہ زکوٰۃ دینے پر بات کی تھی۔ آج بات ہو گی اس خفیہ روییے کی، جس کی وجہ سے عام مسلمان ، آغا خانیوں کو اسلام کا ایک فرقہ سمجھتا ہے۔ یہ وہ پوشیدہ عبادت ہیں، جو آغا خانی اپنے جماعت خانوں میں بند دروازوں کے پیچھے کرتے ہیں اور اس بات کا مضبوطی سے تعین کرتے ہیں کہ کوئی غیر اسماعیلی ان کی عبادت کو دیکھ نہ لے۔ جماعت خانوں میں کیمرے والے موبائل فون لے جانے پراتنی سخت ممانعت ہوتی ہے جیسے عبادت گاہ نہ ہوئی ، کسی ملک کا اٹیمی پلانٹ ہوگیا۔ آپ کسی بھی مذہب کی عبادت گاہ چلے جائیں، آپ کو ہر جگہ اندر جانے کی، عبادت گاہ اور عبادات کو دیکھنے کی، تصویریں کھینچنے کی، آواز محفوظ یا ریکارڈ کرنے کی، یا ویڈیو بنانے کی اجازت ہوتی ہے. لیکن جب بات آغا خانی جماعت خانے کی ہوتی ہے تو کسی عام آدمی کیمرے اور ریکارڈنگ کی اجازت تو دور، کسی غیر اسماعیلی کو اندر آنے تک کی اجازت نہیں ہوتی۔ آپ کسی اسماعیلی سے ان کی مذہبی درس گاہوں میں پڑھائی جانے والی کتابیں مانگ کر دیکھیں، سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ کوئی آغا خانی آپ کو یہ کتابیں دے دے. میں نے اسلام قبول کرتےوقت یہی تہییا کیا تھا کہ ان شاءالله  اپنی ویب سائٹ "انسائڈ اسماعیلیزم" اور فیس بک پیج "ری تھنکنگ اسماعیلیزم" کے ذرے پوری دنیا کو بتاؤں گا کہ آغا خانی کن کتابوں کا مطالعہ کرتے ہیں اور ان کی کیا مشرکانہ عبادات ہیں۔

آغا خانی کس حد تک اپنی عبادت اور عقائد کو پوشیدہ رکھتے ہیں، اس بات کا اندازہ ایک دلچسپ واقعے سے آپ کو ہوگا۔

2004 سے 2006 کے درمیان جب میں یوگینڈا کے دارالحکومت کمپالا میں تھا، تب اس دوران ہمارے اسماعیلی جماعت خانے میں حفظان صحت کی آگاہی کی لیۓ ایک  پروگرام ہوا۔ یہ پروگرام، اسماعیلی عبادات اور رسومات کے بعد منعقد تھا اور جماعت کو خاص ہدایات تھیں کہ اس پروگرام میں شرکت کی جائے۔ پروگرام کے خطیب، کینیڈا سے آئے ہوئے ایک اسماعیلی مشنری تھے جو کہ پیشے کے لحاظ سے نہ صرف ڈاکٹر تھے بلکہ آغا خان ہیلتھ نیٹ ورک سے بھی وابستہ تھے۔

پروگرام جماعت خانے میں، مرکزی عبادت گاہ سے ہٹ کر ایک الگ ہال میں تھا. یہاں ریکارڈنگ کی سہولت موجود تھی۔ ڈاکٹر صاحب دینی اور دنیاوی لحاظ سے ایک تعلیم یافتہ شخص تھے۔ ہر قسم کے سوالات کا جواب دینے کی اہلیت رکھتے تھے۔ اس قسم کے لوگوں کا ویسے ہی یوگینڈا میں فُقدان تھا، اور جماعت کے لوگوں نے سوالات پوچھنے کا یہ موقع غنیمت جانا۔
لہٰذا پروگرام کے بعد سوالات اور جوابات کا سلسلہ جو شروع ہوا تو بات صحت سے چلی اور پھر مختلف موضوعات سے ہوتی ہوئی عقائد پر اور پھر دسوند پر چلی گئی.
جیسے ہی بات اسماعیلی عقائد پر آئی ، ڈاکٹر صاحب نے کسی بھی قسم کا جواب دینے سے قبل، کیمرے کی ریکارڈنگ فورا بند کر دی۔ واضح رہے کہ یہ ریکارڈنگ کسی یو ٹیوب ویڈیو کے لئے نہیں تھی بلکہ صرف جماعت خانے ہی کے استعمال کے لئے تھی مگر پھر بھی ڈاکٹر صاحب نے اسماعیلی عقائد کی کسی بھی بات کو کیمرے کی آنکھ سے دور ہی رکھا۔

یہ واقعہ تو آپ کے لیۓ شاید صرف دلچسپ ہے مگر یقین کریں، اس واقعہ کے بعد میرے دل میں نہ صرف آغا خانیت کے خلاف مزید شبہات پیدا ہو گئے، بلکہ میرے دل میں حق کو جاننے کی کشمکش نے ایک نیا زور پکڑ لیا۔

(باقی آئندہ)

تحریر: اکبر خوجہ

پچھلے تین حصے مندرجہ ذیل لنکس پر پڑھیں:

حصہ اول: https://goo.gl/PXQxDk
حصہ دوئم: https://goo.gl/41fBHN
حصہ سوئم: https://goo.gl/kYR9F4

میں آغاخانی سے مسلمان کیسے ہوا؟ - حصہ سوئم



پچھلی دو پوسٹوں میں، میں نے آغاخانیوں کے مشرکانہ عقیدے، یعنی بجائے اللہ کے، آغاخان دعا مانگنے پر، جماعت خانے میں قرآن اور رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کی عدم موجودگی پر، اور صلوٰۃ کے عجیب و غریب طریقے پر روشنی ڈالی تھی۔ آج میرا موضوع صرف ایک لفظ ہے: "دسوند"۔

دسوند
چونکہ آغاخانی اسلام کے کسی بھی حکم کا قرآن اور حدیث سے استمبات نہیں کرتے، لھٰذا زکوٰۃ کا بھی یہی حال ہے۔ آغاخانی اسماعیلی زکوٰۃ ادا نہیں کرتے بلکہ زکوٰۃ  کی جگہ دسوند دیتے ہیں۔

جس طرح ان کی اسماعیلی صلوٰۃ، رسول اللہ ﷺ کی بتائی ہوئی صلوٰۃ سے بلکل مختلف ہے، اسی طرح ان کی دسوند بھی اللہ اور اس کے رسول کی بتائی ہوئی زکوٰۃ سے بلکل الگ ہے۔

اسماعیلی اپنی مہانہ آمدنی پر کم از کم دس فی صد "دسوند" آغاخان کو ادا کرتے ہیں۔ پچھلے زمانے میں اسماعیلی ڈھائی فی صد کی مزید رقم اپنے پیر کو بھی ادا کرتے تھے. آج کل چونکہ آغا خان نے پیر کا منصب منسوخ کر دیا ہے، اور اپنے آپ کو "پیر" کا لقب دیا ہوا ہے، لہٰذا "خوجہ" اسماعیلی یہ مزید ڈھائی فی صد بھی آغاخان ہی کو ادا کرتے ہیں۔

یعنی ہر آغا خانی کی ہر مہینے کی آمدنی میں سے پورے ساڑھے بارہ فی صد آغا خان کو جاتا ہے.

علاوہ ازیں ہمارے ساتھ یہ بھی ہوتا تھا کہ اگر ہمارے خاندان کے کچھ افراد اگر کسی "مجلس" کے "ممبر" ہوں تو اس ادائیگی میں مذید اضافہ ہو جاتا تھا۔

مثال کے طور پر اگر 'مبارک منڈلی' (مبارک مجلس) کے ممبر ہوں، تو یہ ادائیگی پچیس (۲۵) فی صد تک بڑھ جاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ایک گھر میں اگر میاں بیوی دونوں ممبر ہوں تو اپنی تمام آمدنی کا ۲۵ فی صد حصہ دیں گے ۔ یہاں تک کہ اپنے جیب خرچ میں سے بھی!  لہٰذا شوہر اپنی آمدنی میں سے ۲۵ فی صد ادا کرے گا، اس کے بعد بیوی کو جیب خرچ دے گا، اب بیوی کی اگر کہیں سے آمدنی ہے، تو وہ اس کا تو ادائیگی پچیس (۲۵) فی صد ادا کرے گی ہی، اوپر سے جو شوہر نے دیا اس پر بھی پچیس (۲۵) فی صد ادا کرے گی، یاد رہے کہ یہ وہ جیب خرچ ہے جو شوہر نےپہلے سے "دسوند" نکال کر بیوی کو پیسے دیئے تھے۔ سوچیں آغاخان کی آمدنی کتنی ہو گی!

اب دیکھیں اسلام کی خوبصورتی: اسلام میں زکوٰۃ صرف زائد مال پر واجب الادا ہے، یعنی اپنے ضروری اخراجات نکالنے کے بعد وہ رقم جو کہ زائد ہو، اور بارہ مہینوں تک استعمال میں نہ آئے، اس پر زکوٰۃ ادا کی جاتی ہے۔ وہ بھی صرف ڈھائی فی صد – غرباء اور ضرورت مندوں کو-

آغاخان دعویٰ کرتا ہےکہ وہ نبی کریمﷺ کے خاندان سے ہے، جبکہ نبی کریمﷺ نے کبھی زکوٰۃ اور صدقات اپنے اہل و ایال کے لیئے قبول نہیں کیئے۔ ایک طرف تو آغاخان اہل ِبیت ہونے کا دعویٰ کرتا ہے، اور زکوٰۃ (دسوند) کے پیسے الگ لیتا ہے۔

اسماعیلی صدیوں سے دسوند کے نام پر اپنی آمدنی آغاخان پر لٹائے جا رہے ہیں۔ الحمدُللہ میں نے فیصلہ کیا کہ اپنا پیسہ پیرس اور لسبن کے محلات میں رہنے والے، شہانہ زندگی گزارنے والے شخص، یعنی آغا خان کو دینے سے بہتر ہے کہ کسی غریب کو زکوٰۃ کی مد میں اپنی رقم ادا کروں.

تحریر: اکبر خوجہ

جمعہ، 28 ستمبر، 2018

میں آغاخانی سے مسلمان کیسے ہوا؟ - حصہ دوئم



پچھلی پوسٹ میں، میں نے آغاخانیوں کے مشرکانہ عقیدے، یعنی بجائے اللہ کے، آغاخان دعا مانگنے پر روشنی ڈالی تھی۔

آج ایک ایسے دوسرے پہلوپر بات کروں گا، جو ہر آغآخانی اسماعیلی محسوس تو ضرور کرتا ہو گا، مگر شاید ہی کبھی اس سوال کو جماعت خانے میں اٹھانے کی جرات کرے۔

جماعت خانے میں، قرآن کی تعلیمات اور رسول اللہ کی تعلیمات کی عدم موجودگی، اور صلوٰۃ کا عجیب طریقہ:



اگر آپ کسی آغآخانی سے پوچھیں کہ کیا آپ کے جماعت خانے میں قرآن اور حدیث کی تعلیمات دی جاتی ہیں، تو اُس آغاخانی کی طرف سے جواب یقیناً نفی میں ہو گا۔ اگر مثبت جواب مل جائے تو چند مزید سوالوں سے آپ کو پتا لگ جائے گا کہ آغا خانی، قرآن اور حدیث کے بنیادی علوم سے مکمل طور پر نا آشنا ہیں۔  مثلاً ان کے نزدیک حدیث کا کوئی بھی مجموعہ قابلِ قبول نہیں۔ دنیا کے تمام جماعت خانوں میں قرآن کا ایک بھی مصحف نہیں ملے گا۔ میں نے بچپن سے آج تک اپنے آغاخانی رشتہ داروں کے گھروں میں کوئی قرآن نہیں دیکھا۔ اِس کر وجہ صاف ہے:

آغاخانیوں کے نزدیک،ان کا امام کریم آغاخان خود "بولتا قرآن" ہے، اور وہ صاف کہتے ہیں کہ چونکہ آغاخان خود "بولتا قرآن" ہے، لہذا انہیں قرآن پڑھنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ کریم آغا خان خود ہی انہیں قرآن کا خلاصہ بتا دیتا ہے۔

آغاخانیت کے کرتادھرتاوں کو اچھی طرح معلوم ہے کہ اگر آغاخانیوں نے قرآن کی تعلیمات پڑھ لیں تو انہیں اسلام اور آغاخانیت کا فرق صاف پتا چل جائے گا اور اللہ کی ھدایت کا دروازہ ان پر کھل جائے گا۔ خود آغاخان کی منافقت کا یہ عالم ہے کہ ایک طرف وہ اپنے فرامین میں قرآن کی اہمیت کا اقرار کرتا ہے، اور دوسری طرف وہ قرآن کا کوئی بھی حکم اپنی جماعت پر صادر کرنے سے گریز کرتا ہے۔

دوسری طرف حدیث کی عدم موجودگی میں آغاخانی قرآن کے کسی بھی حکم کا عمل، حدیث سے اخذ نہیں کرتے۔ مثلاً:
 
1۔ آغاخانیوں کے ہاں فرض، سنت، واجب اور نفل کا کوئی تصور نہیں ہے۔

2۔ آغاخانی، نمازِنبوی کا رد کرتے ہیں۔ ان کی نماز کا طریقہ شیعہ اور سنّی کی نمازوں کے طریقۂ کار سے بلکل مختلف ہے۔ ان کی نمازوں میں کوئی رکوع نہیں ہوتا، بلکہ پوری نماز، آلتی پالتی مار کر بیٹھ کر پڑھ لیتے ہیں۔


3۔ آغاخانی، دن میں پانچ وقت کی جگہ دو وقت اپنی خود ساختہ نماز پڑھتے ہیں (ایک نماز صبح اور دو نمازیں شام کو ملا کر)

4- آغاخانیوں کی نمازوں کے اوقات کا سورٖج کے طلوع اور غروب سے نہیں بلکہ پورے سال ایک ہی وقت نماز پڑھی جاتی ہے۔ امریکہ اور کینیڈآ میں شام کی نمازوں کا وقت ہفتہ اور اتوار کو شام 7:00 بجے اور باقی دنوں میں شام 7:30 بجے ہے۔ حالانکہ یہاں کے علاقوں میں گرمیوں میں مغرب کے اوقات رات 9:00 بجے تک ہو جاتے ہیں، مگر آغاخانیوں کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ ان کی نمازیں، اوقاتِ طلوع و غروب شمس سے متوازی ہیں یا نہیں۔ ہاں البتہ اس بات کا خیال ضرور رکھتے ہیں کہ جماعت خانے کے اوقات کا، کاروباوی اوقات سے تسادم نہ ہو۔


5۔ آغاخانیوں کی نماز میں رکعات کی تعداد 6 ہے(ہر رکعت کو "پاٹھ" کہتے ہیں)۔

6- آغاخانی، اپنی خود ساختہ نماز میں اپنی مرضی کی قرآنی سورہ نہیں پڑھ سکتے، بلکہ مقرر کردہ سورتیں اور آیات کے ٹکڑے مسخ کر کے پڑھتے ہیں۔


7۔ آغاغانی قبلہ رو ہو کر اپنی نماز نہیں پڑھتے، بلکہ کسی بھی سمت کی جانب پڑھ لیتے ہیں۔ ان کے نزدیک کعبۃ اللہ کی کوئی حیثیت نہیں۔

8۔ آغاخانیوں کے نزدیک حج کی تاویل کریم آغاخان کو دیکھنا ہے۔ نہ تو کریم آغاخان نے کبھی اصل اسلامی حج کیا، نہ کوئی آغاخانی حج کو دینی فریضہ سمجھتا ہے۔

آغاخانیوں کو صرف اور صرف وہی کتابیں پڑھنے کی اجازت ہے، جو آغاخان سے منظورشدہ ہیں اور صرف جماعت خانے ہی سے دستیاب ہیں۔ یہ تمام کتابیں قرآن اور حدیث سے کوسوں دور ہیں۔

سب سے زیادہ حیرت کی یہ بات ہے کہ آغاخان خود اپنے پیروکاروں کے سامنے کہ چکا ہے کہ قرآن ایک عظیم کتاب ہے اور فرمانِ الٰہی ہے۔ البتہ اس سے آگے کوئی ایسا قدم نہیں اٹھایا جس سے قرآنی تعلیمات، نصاب میں شامل کر کے اسماعیلی آغاخانیوں تک پہنچائی جائیں۔ بد قسمتی سے جب بھی آغاخان، قرآن کی تعریف بیان کرتا ہے، تو ہر آغاخانی یہی سمجھتا ہے کہ چونکہ آغاخان بولتا قرآن ہے، تو یہ عظمت آغاخان ہی کی ہے۔ نعوذُبللّہ۔

میرے وہ بھائی جو آغاخانیت چھوڑ کر اسلام میں داخل ہو چکے ہیں، اور قرآن کا مطالعہ کر چکے ہیں، اچھی طرح جانتے ہیں کہ قرآن اور اسماعیلی تعلیمات میں زمین اور آسمان کا فرق ہے۔


(باقی آئندہ)

میں آغاخانی سے مسلمان کیسے ہوا؟ - حصہ اول




اس سے پہلے کہ میں اس حصہ کا آغاز کروں ،میں بتا دینا چاہتا ہوں کہ ہدایت صرف اور صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے- وہ جسے چاہے ہدایت دے اور جسے چاہے نہ دے۔ ہاں البتہ بندے کا ہدایت کے لیئے متلاشی ہونا شرط ہے۔ جیسا کہ اللہ نے قرآن میں فرمایا:


وَمَا كَانَ لِنَفْسٍ أَنْ تُؤْمِنَ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ وَيَجْعَلُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِينَ لَا يَعْقِلُونَ
(سورہ یونس، ۱۰۰)



ترجمہ: حالانکہ کسی شخص کو قدرت نہیں ہے کہ اللہ کے حکم کے بغیر ایمان لائے اور جولوگ بے عقل ہیں ان پر وہ کفر اور ذلت کی نجاست ڈالتا ہے


آغاخانیت میں کئی اچھوتی باتیں تھیں جومیں ایک ایک کرکےبیان کروں گا۔

امام کا گناہوں کو معاف کرنےکا اختیار:


آغاخانیت کا عقیدہ ہے کہ گناہوں کی معافی مانگنے کا طریقہ صرف اور صرف حاضر امام ، یعنی کریم آغاخان سے براہ ِراست گناہوں کی معافی مانگنا ہے۔ واضح رہے کہ یہاں بات وسیلے کی نہیں ہو رہی ہے بلکہ براہِ راست آغاخان سے مانگنے کی بات ہو رہی ہے، جو کہ کھلا شرک ہے۔ آغاخانی اپنے جماعت خانوں میں اپنی خود ساختہ نماز (جس کے بارے میں آئندہ بیان کروں گا) کے آخر میں حرف بہ حرف مندرجہ ذیل الفاظ کہتے ہیں:


یا نور مولاناشاہ کریم الحسینی حاضر امام ، گت جماعت کے گناہ معاف فرما،یا نور مولاناشاہ کریم الحسینی حاضر امام ، جماعت کی مشکلیں آسان کر،یا نور مولاناشاہ کریم الحسینی حاضر امام ، جماعت کو اپنا نورانی دیدار نصیب فرما۔


بچپن یہ سے میرے لیئے یہ ایک سمجھ میں نہ آنے والی بات تھی کہ ایک طرف تو ہم آغاخانی اپنی خود ساختہ نماز کے شروع میں کہتے :


اِيّاك نعبُدُ و اِيّاك نستَعين


ترجمہ: (اے اللہ) ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور صرف تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں۔



پھر ہم اپنی خود ساختہ نماز کی چھ رکعتوں (ہر رکعت کو ایک "پاٹھ" کہا جاتا ہے) میں ، ہر پاٹھ کے آخر میں ،آغاخان کی تصویر کے آگے سجدہ کرتے ہوئے کہتے:


اللهم لك سُجودي و طاعتي


ترجمہ: (اے اللہ) میرا سجدہ اور میرے تعبداری صرف تیرے ہی لیئے ہے۔


آپ خود ہی بتایئے کہ یہ کیسا ظلم ہے کہ آغاخانیت کی خود ساختہ نماز میں، دانستہ طور پر، اللہ اور آغاخان کے درمیان فرق بچپن ہی سے مٹایا جاتا ہے، حتیٰ کہ ہر اسماعیلی آغاخانی کے ذہن میں آغاخان اور خالقِ کائنات کے درمیان فرق کرنا، نا ممکن ہو جاتا ہے۔


آغاخانی جماعت خانوں میں خاص مجالس ہوتی ہیں، اور ہر مجلس کی ممبرشپ کے الگ پیسے ہوتے ہیں۔ ان میں دو مشہور مجالس " چاند رات کی مجلس" اور "بیت الخیال کی مجلس" ہیں، جن کے زیادہ تر اسماعیلی ممبر ہیں۔


چاند رات اور بیت الخیال کی مجالس میں جماعت خانوں میں "مشکل آسان" کے نام پر خاص میزیں لگائی جاتی ہیں، جن پر باقائدہ پیسے دے کر، زندہ اور وفات شدہ (جسے "روحانی" کہا جاتا ہے) لوگوں کی مشکل آسان کے پیسے لیئے جاتے ہیں۔ 2007 میں امریکہ کے فینکس جماعت خانے میں مشکل آسان کے ریٹ 6 ڈالر فی کس تھے۔ میں نے خود 12 ڈالر اپنے ماں باپ کی مشکل آسان کے لیئے دیئے تھے، جس کے بدلے میں مقررہ شخص نے آغاخان سے میرے والدین کے حق میں دعا کی۔ آج بھی جب میں یہ واقعہ یاد کرتا ہوں تو مجھے اپنی بے وقوفی پر ہنسی تو آتی ہے ، مگر دوسروں پر افسوس بھی ہوتا ہے کہ نہ جانے کب تک یہ لوگ سوچے سمجھے بغیر اسی چکر میں پھنسے رہیں گے،اور کب حق کی تلاش کریں گے۔


(باقی آئندہ، حصہ دوئم میں)

آغا خانى اسماعيلى فرقہ اور پاکستان کا تعلیمی مستقبل:

آغا خانى اسماعيلى فرقہ اور پاکستان کا تعلیمی مستقبل: آغا خانيوں كو قومى تعليم ميں سركارى آرڈيننس(CXIV/2002)كى روسے بڑا اہم كردار ...