جمعہ، 28 ستمبر، 2018

آغا خان کی دنیائے اسلام کے لیئے خدمات

حال ہی میں اسماعیلوں کی طرف سے مغربی دنیا کے مسلمانوں کو، اور دنیائے اسلام کے لبرل مسلمانوں کو ایک پروپیگنڈا کے ذریئے ،آغا خان کی سخاوت کا قائل کرنے کی ، اور آغا خان کے اقتصادی منصوبوں کی افادیت کو اجاگر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔

حقیقت اس سے بہت دور ہے۔ یہ تمام ادارے منافع بخش ادارے ہیں۔ آغا خان کے ان مہنگے، منافع بخش اور نام نہاد عوامی فلاح و بہبودی اداروں کے سرفہرست آغا خان ہسپتال ہے، جو کہ صرف مہنگا ہی نہیں ، بلکہ شہر کا مہنگا ترین اسپتال ہے ۔ اس کی برانچ کراچی کے علاوہ نیروبی، کینیا میں بھی موجود ہے ، اور وہاں بھی یہ ہسپتال شہر کا مہنگا ترین اسپتال ہوتے ہوئے غریب تو کیا، ایک متوسط آمدنی والے فرد کے لیئے بھی مالی پھنچ سے دور ہے۔ ان دونوں شہروں میں اس ہسپتال کے خلاف کئی طبی غفلت کے مقدمات عدالات میں درج ہیں ، اور متاثر ین کی رودادیں انٹرنیٹ پر دیکھنے کیلئے عام دستیاب ہیں۔

کابل (افغانستان) میں آغاخان کی تعمیر شدہ نئی سیرینا ہوٹل میں ایک عام کمرے کا کرایہ 250 ڈالر یومیہ ہے ، جو کہ ایک متوسط درجے کے افغانی شہری کی سالانہ تنخواہ ہے، جس میں کابل کے سیرینا ہوٹل کے ملازمین شامل ہیں ۔ دنیا بھر میں سیرینا ہوٹلوں میں شراب عام فروخت کی جاتی ہے، لیکن یہ ایک الگ موضوع ہے اور میرے ایک الگ کالم میں اس پر خطاب کیا گیا ہے۔

آغا خان کے ادارے غربت کے خاتمے پر توجہ تومرکوز کرتے ہیں، لیکن یہ پروگرام سختی سے، صرف اور صرف اسماعیلی کمیونٹی کے لیئے ہوتے ہیں۔ جن کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ اسماعیلی اپنے پیروں پر کھڑے ہوں، کیونکہ ہر اسماعیلی اپنی کمائی میں سے ساڑھے بارہ فی صد، ہر مہینے، آغاخان کو دیتا ہے۔

اسماعیلیوں کی جانب سے یہ 12.5 فی صد کی مہانہ ادائیگی، 'دسوند' کہلاتی ہے جس کا مطلب یہ ہے 'دسواں حصہ'۔ جدید اسماعیلی مشنریوں کا دعوی ہے کہ یہ دسوند، زکوٰۃ (2.5٪) اور عشر (10%) کا ایک مجموعہ ہے. تاہم یہ سراسر جھوٹ ہے کیونکہ زکوٰۃ کبھی بھی مہانہ کمائی پر ادا نہیں کی جاتی ، بلکہ اخراجات کے بعد، بارہ مہینے کی غیر استعمال شدہ دولت پر ، زکوٰۃ کی شرع کے مطابق ادا کی جاتی ہے ۔یکم مارچ 1936 کی شیکاگو ٹربیون (Chicago Tribune) میں شائع شدہ ایک خبر کے مطابق ،دسوند کے زرائع سےآغا خان کی سالانہ آمدنی تین ملین ڈالر ($3،000،000) تھی جو کہ افراط زر کی شرح کی ایڈجسٹمنٹ کے بعد آج کے باون ملین ڈالر($52،485،217) ہیں۔ 

بہرحال، دسوند کی تاریخ اسماعیلیوں کے مخصوص ' گنانوں' میں پائی جاتی ہے جو اسماعیلیوں کے پیروں نے پچھلے سو سے دو سو سالوں میں گجراتی زبان میں لکھے ہیں۔ اس زمانے میں اسماعیلی ہر ماہ دسوند (دسواں حصہ) اپنے امام کو دیتے تھے اور ڈھائی فی صد اپنے پیر کو دیتے تھے جو کے اسلام کے برخلاف ہے۔ تاہم جب آغاخان سوئم اقتدار میں آیا تو اس نے امام اور پیر کے دونوں عہدوں کا دعوی کیا ۔ اس زمانے میں اسماعیلی امام کو روحانی ماں ،اور پیر کو روحانی باپ کہتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ معروف اسماعیلی مشنری مثال کے طور پر کمال الدین اور ابو علی عبد العزیز ،آغا خان کو اپنی تقریروں اور واعظوں میں ،روحانی ماں باپ کی نام سے پکارتے ہیں۔ ان تمام تاریخی حقائق کو موجودہ اسماعیلوں سے مکمل طور پر چھپایا جاتا ہے اور سکھایا جاتا ہے کہ دسوند کی شرع ، صرف زکوٰۃ اور عشر کےبرابر ہوتی ہے۔

یہ صرف دسوند بمقابلہ زکوٰۃ کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ یہ نماز بمقابلہ اسماعیلی نماز کا مسئلہ بھی ہے، حج بمقابلہ آغاخان کے دیدار کا مسئلہ بھی ہے، رمضان المبارک کے روزوں کے رد کا بھی ہے، یہ تمام مسائل آغاخانیت اور اسلام کو ایک دوسرے سے میلوں دور لا کر کھڑا کر دیتے ہیں۔ شیعہ اور سنی سمیت تمام مسلمان کلمہ، نماز، زکوٰۃ ، حج اور روزہ کے پانچ بنیادی ستونوں پر ایمان رکھتے ہیں اور ان پر عمل کرتے ہیں جبکہ اسماعیلی آ کر ایک نیا دعویٰ کرتے ہیں کہ نماز کا مطلب ضروری نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر نماز ادا کی جائے، پرنس کریم آغا خان نے الگ طریقہ بتایا ، ہم اس طریقے سے نماز پڑہ لیں گے۔ روزہ کھانے اور پینے سے بچنے کا نام نہیں، روزہ تو دل کا ہوتا ہے۔ زکوٰۃ غریبوں کو سالانہ اضافی مال پر نہیں، بلکہ ماہانہ آمدنی پر امام (کریم آغا خان) کو دی جاتی ہے، وہ جہاں چاہیں خرچ کریں۔ اور جہاں تک حج کا تعلق ہے، حج نام ہے کریم آغا خان کواپنی آنکھوں سے دیکھنے کا۔

ان عقائد سے واضح ہے کہ مذہبی سطح پر، اسماعیلوں کے پاس کھڑے ہونے کے لئے پاؤں نہیں ہیں، جیسا کہ مندرجہ بالا عقائد ، اسلام کے قریب بھی نہیں۔ اب آغا خانی، آغاخان ہسپتال کا اور دوسرے انتہائی منافع بخش اداروں کا حوالہ دیتے ہیں جو صرف مھنگے منافع بخش کاروبار ہیں ۔ اصل میں آغا خان کے کاروبار کی فہرست چھوٹی نہیں ، بلکہ یہ ایک بڑی فہرست ہے۔ آغا خان نے ان تمام اداروں کو AKFED یا 'آغا خان فنڈ برائے اقتصادی ترقی 'کے زیرِ انتظام رکھا ہے۔ AKFED ایک نجی ہولڈنگ کمپنی (Private Holding Company) ہے اور تمام کاروباری اداروں کو AKFED کے زیرِ انتظام رکھنے کا مقصد، منافع کو خفیہ رکھتے ہوئے عوام کی نظروں سے اوجھل کرنا ہے۔ AKFED کے زیرِ انتظام آغاخان کے کئی کاروبار ہیں جن میں مندرجہ ذیل بینک، انشورنس کمپنیاں، موبائل فون کمپنیاں ، ایئر لائنز اور ہوٹل شامل ہیں:

1۔ بینک اور انشورنس کمپنیاں: حبیب بینک لمیٹڈ (پاکستان)، ترقیاتی کریڈٹ بینک لمیٹڈ (بھارت)، کارغز سرمایہ کاری اور کریڈٹ بینک (کارغزستان)، جوبلی انشورنس (پاکستان)، جوبلی لائف انشورنس(پاکستان)، پلاٹینم جوبلی انوسٹمنٹ لمیٹڈ(بھارت)، ڈائمنڈ ٹرسٹ بینک (یوگینڈا)
2۔ ایئر لائنز: ایئر مالی(مالی)، میریڈیانا فلائی (اٹلی)، ایئر یوگینڈا (یوگینڈا)
3۔ موبائل فون کمپنیاں: روشن ٹیلی کمیونیکیشنز (افغانستان)، موانیچی مواصلات(تنزانیہ)، ٹی-سیل (تاجکستان)
4۔ ہوٹل: کابل سیرینا ہوٹل(افغانستان)، فیصل آباد سرینا ہوٹل(پاکستان)، اسلام آباد سیینا ہوٹل(پاکستان)، کوئٹہ سیرینا ہوٹل(پاکستان)، سوات سیرینا ہوٹل(پاکستان)، نروبی سیرینا ہوٹل(کینیا)، مارا سرینا سفاری لاج(کینیا)، سیرینا ماؤنٹین لاج، جھیل وکٹوریہ سیرینا ریزورٹ، سیلس وائلڈ لائف لاج، جھیل ہیراارا سفاری لاج۔
5۔ توانائی: ازوٹو توانائی(مغربی افریقہ)، پامیر توانائی (تاجکستان)

اپنے مالیاتی گوشوارے شائع نہ کرنے کی وجہ سےآغاخان فاؤنڈیشن کینیڈا (AKFC)حال ہی میں زیرِ تحقیقات تھی۔ اس ادارےنے 2013 میں 41.9 ملین ڈالر کی مالی امداد کینیڈا کی حکومت سے حاصل کی اور اس رقم کو خرچ نہیں کیا۔حقیقت میں، یہ پتہ چلا کہ آغاخان فاؤنڈیشن کینیڈا نے اتنی مالیاتی امداد جمع کر لی تھی کہ وہ اگلے 8 سال تک بغیر ایک پیسہ کمائے اپنی اخراجات اٹھانے کے قابل تھی۔ یہ خبر معتبر اخبارات 'ٹورنٹو اسٹار' اور 'بلومبرگ' نے شائع کی۔

کینیڈا کےموجودہ وزیراعظم کے ساتھ بھی آغا خان کا تعلق حال ہی میں زیربحث تھا، کیونکہ ایک طرف تو کینیڈا کی حکومت سے آغاخان نے 2004 سے لے کر اب تک 310 ملین ڈالر لیئے اور دوسری طرف کینیڈا کےموجودہ وزیراعظم کو ان کے اہل و ایال سمیت آغاخان نے اپنے ذاتی جزیرے پر چھٹیاں گزارنے کے لیئے مدوع کرلیا۔ کینیڈا کے شفافیت کے اداروں نے اس دعوت کو شدید تشویش کی نظر سے دیکھا اور اس دعوت کو رشوت دینے کے برابر ٹھرایا۔ اس تفتیش کے دوران چند سنسنی خیز انکشافات بھی سامنے آئے جن میں سے ایک یہ بات تھی کہ آغاخان کا وہ ذاتی جزیرہ،آغاخان کے اپنے نام نہیں ۔بلکہ اس جزیرے کی ملکیت آفشور کمپنوں کے جال میں چھپی ہوئی ہے۔ یہی حال اس ہیلی کاپٹر کا تھا جس میں کینیڈا کے وزیراعظم نے آغاخان کے جزیرے تک کا سفر کیا۔ ان آفشور کمپنوں کی تفسیلات پنامالیکس (Panama Leaks ) میں ظاہر ہوئیں۔ اور تو اور، جب چند مہینوں بعد پیراڈائز پیپرز(Paradise Papers)منظرِعام پر آئے تو یہ بات بھی ظاہر ہوئی کہ اپنی تیز رفتار یاٹ کشتیاں (yacht) پوشیدہ رکھنے کے لیئے آغاخان نے براوہ رومیو (Bravo Romeo ) کے نام سے ایک اور آفشور کمپنی قائم کر رکھی ہے۔ واضح رہے کہ آغاخان کی صرف ایک تیز رفتار یاٹ کشتی (yacht) کی قیمت 200 ملین پاونڈ ہے۔

آغا خان کو کینیڈا میں اس وقت بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا کیا جب انہوں نے 'گلوبل سینٹر فار پلورل ازم' بنانے کے لیئے کینیڈین حکومت کے ٹیکس دہندگان کے پیسہ سے 30 ملین ڈالر لے لیئے۔ اس سینٹر کے دفتر کے لیئے انہوں نے صرف ایک ڈالر کے بدلے 99 سال کے لیئے ایک قیمتی عمارت حکومت سے 'کرائے' پر لے لی، اور اوپر سے یہ اجازت بھی لے لی کہ اس عمارت کی آدھی جگہ وہ دوسری کمپنیوں کو مارکیٹ کے نرخوں کے بطابق ذیلی کرائے پر دیں گے۔ اس سینٹر کا کام سال میں صرف اور صرف دو تقریبات کرنا، اور ریسرچ پیپر شائع کرنا ہے۔

آغا خان اور اسماعیلی کمیونٹی کے لوگ اس وقت ت بھی زیرِحقیقات تھے، جب امریکی ایف۔ بی۔ آئی (FBI) نے پیسے کی سمگلنگ (Money Laundering) کے جرم میں اسماعیلی کمیونٹی کے ارکان کو امریکہ - کینیڈا کے بارڈر پر دسوند کی رقم (جی ہاں، وہی 12.5 فیصد) کو سمگل کرتے ہوئے پکڑ لیا گیا۔ آغاخان کی خوش قسمتی تھی کہ ملوث اسماعیلوں نے اپنے آپ خود کو قصوروار تسلیم کر کے، قید اور سزا قبول کر لی۔ اس پورے واقعہ کو کینیڈا کےمعتبر ٹی وی چینل سی-بی-سی (CBC) نے ایک دستاویزی فلم 'خدا کا پیسہ' (God’s Money) میں فلم بند کیا۔ یہ فلم انٹرنیٹ پر، یوٹیوب (YouTube) پر دیکھی جا سکتی ہے۔

صرف مالی خردبرد نہیں، بلکہ یہ بات بھی منظرِعام پر آ چکی ہے کہ آغاخان نے تاجکستان میں تاجک علیحدگی پسند دہشت گردوں کو، تاجک حکومت کے خلاف مالی امداد فراہم کی۔ اس خبر کو پریس ٹی- وی نے'اسماعیلوں کے لئے نئے ملک کا منصوبہ ' کے نام سےشائع کیا ۔

جہاں تک ذاتی زندگی کا تعلق ہے، آغاخان شادی صرف غیر مسلم مغربی سُپر ماڈلز کے ساتھ، ان کو اسلامی نام دے کر کرتے ہے۔ طلاق پر ان عورتوں کو آغآخان کی طرف سے کئی ملین ڈالر کی ادایئگی ہوتی ہے، اور یہ عورتین طلاق ہوتے ہی دوبارہ غیر مسلم ہو جاتی ہیں۔ لیکن یہ پھر ایک طویل کے موضوع ہے جس پر پھر کبھی انشاء اللہ تفصیل سے لکھوں گا۔

چاہے آپ اسماعیلی ہوں یا مسلمان، جب بھی آپ آغاخان کے ذیرِاحتمام کسی ادارے کو اپنا قیمتی وقت یا پیسا دے رہے ہوں،یہ ضرور یاد رکھیے گا کہ آ پ کا وقت اور پیسہ کس کی ملکیت بنے جا رہے ہیں۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

میں آغاخانی سے مسلمان کیسے ہوا؟ - حصہ چہارم

میں آغاخانی سے مسلمان کیسے ہوا؟ - حصہ چہارم - پچھلی تین پوسٹوں میں، میں نے آغاخانیوں کے آغاخان سے دعا مانگنے پر، قرآن کی تعلیم...