جمعہ، 28 ستمبر، 2018

میں آغاخانی سے مسلمان کیسے ہوا؟ - حصہ دوئم



پچھلی پوسٹ میں، میں نے آغاخانیوں کے مشرکانہ عقیدے، یعنی بجائے اللہ کے، آغاخان دعا مانگنے پر روشنی ڈالی تھی۔

آج ایک ایسے دوسرے پہلوپر بات کروں گا، جو ہر آغآخانی اسماعیلی محسوس تو ضرور کرتا ہو گا، مگر شاید ہی کبھی اس سوال کو جماعت خانے میں اٹھانے کی جرات کرے۔

جماعت خانے میں، قرآن کی تعلیمات اور رسول اللہ کی تعلیمات کی عدم موجودگی، اور صلوٰۃ کا عجیب طریقہ:



اگر آپ کسی آغآخانی سے پوچھیں کہ کیا آپ کے جماعت خانے میں قرآن اور حدیث کی تعلیمات دی جاتی ہیں، تو اُس آغاخانی کی طرف سے جواب یقیناً نفی میں ہو گا۔ اگر مثبت جواب مل جائے تو چند مزید سوالوں سے آپ کو پتا لگ جائے گا کہ آغا خانی، قرآن اور حدیث کے بنیادی علوم سے مکمل طور پر نا آشنا ہیں۔  مثلاً ان کے نزدیک حدیث کا کوئی بھی مجموعہ قابلِ قبول نہیں۔ دنیا کے تمام جماعت خانوں میں قرآن کا ایک بھی مصحف نہیں ملے گا۔ میں نے بچپن سے آج تک اپنے آغاخانی رشتہ داروں کے گھروں میں کوئی قرآن نہیں دیکھا۔ اِس کر وجہ صاف ہے:

آغاخانیوں کے نزدیک،ان کا امام کریم آغاخان خود "بولتا قرآن" ہے، اور وہ صاف کہتے ہیں کہ چونکہ آغاخان خود "بولتا قرآن" ہے، لہذا انہیں قرآن پڑھنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ کریم آغا خان خود ہی انہیں قرآن کا خلاصہ بتا دیتا ہے۔

آغاخانیت کے کرتادھرتاوں کو اچھی طرح معلوم ہے کہ اگر آغاخانیوں نے قرآن کی تعلیمات پڑھ لیں تو انہیں اسلام اور آغاخانیت کا فرق صاف پتا چل جائے گا اور اللہ کی ھدایت کا دروازہ ان پر کھل جائے گا۔ خود آغاخان کی منافقت کا یہ عالم ہے کہ ایک طرف وہ اپنے فرامین میں قرآن کی اہمیت کا اقرار کرتا ہے، اور دوسری طرف وہ قرآن کا کوئی بھی حکم اپنی جماعت پر صادر کرنے سے گریز کرتا ہے۔

دوسری طرف حدیث کی عدم موجودگی میں آغاخانی قرآن کے کسی بھی حکم کا عمل، حدیث سے اخذ نہیں کرتے۔ مثلاً:
 
1۔ آغاخانیوں کے ہاں فرض، سنت، واجب اور نفل کا کوئی تصور نہیں ہے۔

2۔ آغاخانی، نمازِنبوی کا رد کرتے ہیں۔ ان کی نماز کا طریقہ شیعہ اور سنّی کی نمازوں کے طریقۂ کار سے بلکل مختلف ہے۔ ان کی نمازوں میں کوئی رکوع نہیں ہوتا، بلکہ پوری نماز، آلتی پالتی مار کر بیٹھ کر پڑھ لیتے ہیں۔


3۔ آغاخانی، دن میں پانچ وقت کی جگہ دو وقت اپنی خود ساختہ نماز پڑھتے ہیں (ایک نماز صبح اور دو نمازیں شام کو ملا کر)

4- آغاخانیوں کی نمازوں کے اوقات کا سورٖج کے طلوع اور غروب سے نہیں بلکہ پورے سال ایک ہی وقت نماز پڑھی جاتی ہے۔ امریکہ اور کینیڈآ میں شام کی نمازوں کا وقت ہفتہ اور اتوار کو شام 7:00 بجے اور باقی دنوں میں شام 7:30 بجے ہے۔ حالانکہ یہاں کے علاقوں میں گرمیوں میں مغرب کے اوقات رات 9:00 بجے تک ہو جاتے ہیں، مگر آغاخانیوں کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ ان کی نمازیں، اوقاتِ طلوع و غروب شمس سے متوازی ہیں یا نہیں۔ ہاں البتہ اس بات کا خیال ضرور رکھتے ہیں کہ جماعت خانے کے اوقات کا، کاروباوی اوقات سے تسادم نہ ہو۔


5۔ آغاخانیوں کی نماز میں رکعات کی تعداد 6 ہے(ہر رکعت کو "پاٹھ" کہتے ہیں)۔

6- آغاخانی، اپنی خود ساختہ نماز میں اپنی مرضی کی قرآنی سورہ نہیں پڑھ سکتے، بلکہ مقرر کردہ سورتیں اور آیات کے ٹکڑے مسخ کر کے پڑھتے ہیں۔


7۔ آغاغانی قبلہ رو ہو کر اپنی نماز نہیں پڑھتے، بلکہ کسی بھی سمت کی جانب پڑھ لیتے ہیں۔ ان کے نزدیک کعبۃ اللہ کی کوئی حیثیت نہیں۔

8۔ آغاخانیوں کے نزدیک حج کی تاویل کریم آغاخان کو دیکھنا ہے۔ نہ تو کریم آغاخان نے کبھی اصل اسلامی حج کیا، نہ کوئی آغاخانی حج کو دینی فریضہ سمجھتا ہے۔

آغاخانیوں کو صرف اور صرف وہی کتابیں پڑھنے کی اجازت ہے، جو آغاخان سے منظورشدہ ہیں اور صرف جماعت خانے ہی سے دستیاب ہیں۔ یہ تمام کتابیں قرآن اور حدیث سے کوسوں دور ہیں۔

سب سے زیادہ حیرت کی یہ بات ہے کہ آغاخان خود اپنے پیروکاروں کے سامنے کہ چکا ہے کہ قرآن ایک عظیم کتاب ہے اور فرمانِ الٰہی ہے۔ البتہ اس سے آگے کوئی ایسا قدم نہیں اٹھایا جس سے قرآنی تعلیمات، نصاب میں شامل کر کے اسماعیلی آغاخانیوں تک پہنچائی جائیں۔ بد قسمتی سے جب بھی آغاخان، قرآن کی تعریف بیان کرتا ہے، تو ہر آغاخانی یہی سمجھتا ہے کہ چونکہ آغاخان بولتا قرآن ہے، تو یہ عظمت آغاخان ہی کی ہے۔ نعوذُبللّہ۔

میرے وہ بھائی جو آغاخانیت چھوڑ کر اسلام میں داخل ہو چکے ہیں، اور قرآن کا مطالعہ کر چکے ہیں، اچھی طرح جانتے ہیں کہ قرآن اور اسماعیلی تعلیمات میں زمین اور آسمان کا فرق ہے۔


(باقی آئندہ)

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

آغا خانى اسماعيلى فرقہ اور پاکستان کا تعلیمی مستقبل:

آغا خانيوں كو قومى تعليم ميں سركارى آرڈيننس(CXIV/2002)كى روسے بڑا اہم كردار سونپا جا چكا ہے اور وفاقى وزير تعليم نے كہا ہے كہ اس آرڈيننس ...