جمعہ، 28 ستمبر، 2018

میں آغاخانی سے مسلمان کیسے ہوا؟ - حصہ اول




اس سے پہلے کہ میں اس حصہ کا آغاز کروں ،میں بتا دینا چاہتا ہوں کہ ہدایت صرف اور صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے- وہ جسے چاہے ہدایت دے اور جسے چاہے نہ دے۔ ہاں البتہ بندے کا ہدایت کے لیئے متلاشی ہونا شرط ہے۔ جیسا کہ اللہ نے قرآن میں فرمایا:


وَمَا كَانَ لِنَفْسٍ أَنْ تُؤْمِنَ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ وَيَجْعَلُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِينَ لَا يَعْقِلُونَ
(سورہ یونس، ۱۰۰)



ترجمہ: حالانکہ کسی شخص کو قدرت نہیں ہے کہ اللہ کے حکم کے بغیر ایمان لائے اور جولوگ بے عقل ہیں ان پر وہ کفر اور ذلت کی نجاست ڈالتا ہے


آغاخانیت میں کئی اچھوتی باتیں تھیں جومیں ایک ایک کرکےبیان کروں گا۔

امام کا گناہوں کو معاف کرنےکا اختیار:


آغاخانیت کا عقیدہ ہے کہ گناہوں کی معافی مانگنے کا طریقہ صرف اور صرف حاضر امام ، یعنی کریم آغاخان سے براہ ِراست گناہوں کی معافی مانگنا ہے۔ واضح رہے کہ یہاں بات وسیلے کی نہیں ہو رہی ہے بلکہ براہِ راست آغاخان سے مانگنے کی بات ہو رہی ہے، جو کہ کھلا شرک ہے۔ آغاخانی اپنے جماعت خانوں میں اپنی خود ساختہ نماز (جس کے بارے میں آئندہ بیان کروں گا) کے آخر میں حرف بہ حرف مندرجہ ذیل الفاظ کہتے ہیں:


یا نور مولاناشاہ کریم الحسینی حاضر امام ، گت جماعت کے گناہ معاف فرما،یا نور مولاناشاہ کریم الحسینی حاضر امام ، جماعت کی مشکلیں آسان کر،یا نور مولاناشاہ کریم الحسینی حاضر امام ، جماعت کو اپنا نورانی دیدار نصیب فرما۔


بچپن یہ سے میرے لیئے یہ ایک سمجھ میں نہ آنے والی بات تھی کہ ایک طرف تو ہم آغاخانی اپنی خود ساختہ نماز کے شروع میں کہتے :


اِيّاك نعبُدُ و اِيّاك نستَعين


ترجمہ: (اے اللہ) ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور صرف تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں۔



پھر ہم اپنی خود ساختہ نماز کی چھ رکعتوں (ہر رکعت کو ایک "پاٹھ" کہا جاتا ہے) میں ، ہر پاٹھ کے آخر میں ،آغاخان کی تصویر کے آگے سجدہ کرتے ہوئے کہتے:


اللهم لك سُجودي و طاعتي


ترجمہ: (اے اللہ) میرا سجدہ اور میرے تعبداری صرف تیرے ہی لیئے ہے۔


آپ خود ہی بتایئے کہ یہ کیسا ظلم ہے کہ آغاخانیت کی خود ساختہ نماز میں، دانستہ طور پر، اللہ اور آغاخان کے درمیان فرق بچپن ہی سے مٹایا جاتا ہے، حتیٰ کہ ہر اسماعیلی آغاخانی کے ذہن میں آغاخان اور خالقِ کائنات کے درمیان فرق کرنا، نا ممکن ہو جاتا ہے۔


آغاخانی جماعت خانوں میں خاص مجالس ہوتی ہیں، اور ہر مجلس کی ممبرشپ کے الگ پیسے ہوتے ہیں۔ ان میں دو مشہور مجالس " چاند رات کی مجلس" اور "بیت الخیال کی مجلس" ہیں، جن کے زیادہ تر اسماعیلی ممبر ہیں۔


چاند رات اور بیت الخیال کی مجالس میں جماعت خانوں میں "مشکل آسان" کے نام پر خاص میزیں لگائی جاتی ہیں، جن پر باقائدہ پیسے دے کر، زندہ اور وفات شدہ (جسے "روحانی" کہا جاتا ہے) لوگوں کی مشکل آسان کے پیسے لیئے جاتے ہیں۔ 2007 میں امریکہ کے فینکس جماعت خانے میں مشکل آسان کے ریٹ 6 ڈالر فی کس تھے۔ میں نے خود 12 ڈالر اپنے ماں باپ کی مشکل آسان کے لیئے دیئے تھے، جس کے بدلے میں مقررہ شخص نے آغاخان سے میرے والدین کے حق میں دعا کی۔ آج بھی جب میں یہ واقعہ یاد کرتا ہوں تو مجھے اپنی بے وقوفی پر ہنسی تو آتی ہے ، مگر دوسروں پر افسوس بھی ہوتا ہے کہ نہ جانے کب تک یہ لوگ سوچے سمجھے بغیر اسی چکر میں پھنسے رہیں گے،اور کب حق کی تلاش کریں گے۔


(باقی آئندہ، حصہ دوئم میں)

1 تبصرہ:

  1. دعا کا چوتھا پاٹ پڑھا ہوگا جس میں گناہوں کی معافی مانگنے کے بعد یہ پڑھا جاتا ہے کہ اللّه مغفر لننا ذننوبنا ورزق نا ورحمنا یعنی اے میرے اللّه ہمارے گناہ معاف فرما ہمیں رزق عطا فرما اور ہم پر رحم فرما پھر دعا پڑھتے ہیں جو کچھ اس طرح ہے کہ بحق رسول لیکل مقررابینا وا ا ایمہتیکل متہرین یرنی اپنے مقرب رسولوں اور پاک اماموں کے واسطے سے ہم ان کے واسطے سے ہی اللہ سے مانگتے ہیں

    جواب دیںحذف کریں

آغا خانى اسماعيلى فرقہ اور پاکستان کا تعلیمی مستقبل:

آغا خانى اسماعيلى فرقہ اور پاکستان کا تعلیمی مستقبل: آغا خانيوں كو قومى تعليم ميں سركارى آرڈيننس(CXIV/2002)كى روسے بڑا اہم كردار ...