بدھ، 21 نومبر، 2018

میں آغاخانی سے مسلمان کیسے ہوا؟ - حصہ چہارم




میں آغاخانی سے مسلمان کیسے ہوا؟
- حصہ چہارم -
پچھلی تین پوسٹوں میں، میں نے آغاخانیوں کے آغاخان سے دعا مانگنے پر، قرآن کی تعلیمات کی عدم موجودگی پر، نماز کے عجیب و غریب طریقے پر اور آغاخان کو مہانہ زکوٰۃ دینے پر بات کی تھی۔ آج بات ہو گی اس خفیہ روییے کی، جس کی وجہ سے عام مسلمان ، آغا خانیوں کو اسلام کا ایک فرقہ سمجھتا ہے۔ یہ وہ پوشیدہ عبادت ہیں، جو آغا خانی اپنے جماعت خانوں میں بند دروازوں کے پیچھے کرتے ہیں اور اس بات کا مضبوطی سے تعین کرتے ہیں کہ کوئی غیر اسماعیلی ان کی عبادت کو دیکھ نہ لے۔ جماعت خانوں میں کیمرے والے موبائل فون لے جانے پراتنی سخت ممانعت ہوتی ہے جیسے عبادت گاہ نہ ہوئی ، کسی ملک کا اٹیمی پلانٹ ہوگیا۔ آپ کسی بھی مذہب کی عبادت گاہ چلے جائیں، آپ کو ہر جگہ اندر جانے کی، عبادت گاہ اور عبادات کو دیکھنے کی، تصویریں کھینچنے کی، آواز محفوظ یا ریکارڈ کرنے کی، یا ویڈیو بنانے کی اجازت ہوتی ہے. لیکن جب بات آغا خانی جماعت خانے کی ہوتی ہے تو کسی عام آدمی کیمرے اور ریکارڈنگ کی اجازت تو دور، کسی غیر اسماعیلی کو اندر آنے تک کی اجازت نہیں ہوتی۔ آپ کسی اسماعیلی سے ان کی مذہبی درس گاہوں میں پڑھائی جانے والی کتابیں مانگ کر دیکھیں، سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ کوئی آغا خانی آپ کو یہ کتابیں دے دے. میں نے اسلام قبول کرتےوقت یہی تہییا کیا تھا کہ ان شاءالله  اپنی ویب سائٹ "انسائڈ اسماعیلیزم" اور فیس بک پیج "ری تھنکنگ اسماعیلیزم" کے ذرے پوری دنیا کو بتاؤں گا کہ آغا خانی کن کتابوں کا مطالعہ کرتے ہیں اور ان کی کیا مشرکانہ عبادات ہیں۔

آغا خانی کس حد تک اپنی عبادت اور عقائد کو پوشیدہ رکھتے ہیں، اس بات کا اندازہ ایک دلچسپ واقعے سے آپ کو ہوگا۔

2004 سے 2006 کے درمیان جب میں یوگینڈا کے دارالحکومت کمپالا میں تھا، تب اس دوران ہمارے اسماعیلی جماعت خانے میں حفظان صحت کی آگاہی کی لیۓ ایک  پروگرام ہوا۔ یہ پروگرام، اسماعیلی عبادات اور رسومات کے بعد منعقد تھا اور جماعت کو خاص ہدایات تھیں کہ اس پروگرام میں شرکت کی جائے۔ پروگرام کے خطیب، کینیڈا سے آئے ہوئے ایک اسماعیلی مشنری تھے جو کہ پیشے کے لحاظ سے نہ صرف ڈاکٹر تھے بلکہ آغا خان ہیلتھ نیٹ ورک سے بھی وابستہ تھے۔

پروگرام جماعت خانے میں، مرکزی عبادت گاہ سے ہٹ کر ایک الگ ہال میں تھا. یہاں ریکارڈنگ کی سہولت موجود تھی۔ ڈاکٹر صاحب دینی اور دنیاوی لحاظ سے ایک تعلیم یافتہ شخص تھے۔ ہر قسم کے سوالات کا جواب دینے کی اہلیت رکھتے تھے۔ اس قسم کے لوگوں کا ویسے ہی یوگینڈا میں فُقدان تھا، اور جماعت کے لوگوں نے سوالات پوچھنے کا یہ موقع غنیمت جانا۔
لہٰذا پروگرام کے بعد سوالات اور جوابات کا سلسلہ جو شروع ہوا تو بات صحت سے چلی اور پھر مختلف موضوعات سے ہوتی ہوئی عقائد پر اور پھر دسوند پر چلی گئی.
جیسے ہی بات اسماعیلی عقائد پر آئی ، ڈاکٹر صاحب نے کسی بھی قسم کا جواب دینے سے قبل، کیمرے کی ریکارڈنگ فورا بند کر دی۔ واضح رہے کہ یہ ریکارڈنگ کسی یو ٹیوب ویڈیو کے لئے نہیں تھی بلکہ صرف جماعت خانے ہی کے استعمال کے لئے تھی مگر پھر بھی ڈاکٹر صاحب نے اسماعیلی عقائد کی کسی بھی بات کو کیمرے کی آنکھ سے دور ہی رکھا۔

یہ واقعہ تو آپ کے لیۓ شاید صرف دلچسپ ہے مگر یقین کریں، اس واقعہ کے بعد میرے دل میں نہ صرف آغا خانیت کے خلاف مزید شبہات پیدا ہو گئے، بلکہ میرے دل میں حق کو جاننے کی کشمکش نے ایک نیا زور پکڑ لیا۔

(باقی آئندہ)

تحریر: اکبر خوجہ

پچھلے تین حصے مندرجہ ذیل لنکس پر پڑھیں:

حصہ اول: https://goo.gl/PXQxDk
حصہ دوئم: https://goo.gl/41fBHN
حصہ سوئم: https://goo.gl/kYR9F4

میں آغاخانی سے مسلمان کیسے ہوا؟ - حصہ سوئم



پچھلی دو پوسٹوں میں، میں نے آغاخانیوں کے مشرکانہ عقیدے، یعنی بجائے اللہ کے، آغاخان دعا مانگنے پر، جماعت خانے میں قرآن اور رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کی عدم موجودگی پر، اور صلوٰۃ کے عجیب و غریب طریقے پر روشنی ڈالی تھی۔ آج میرا موضوع صرف ایک لفظ ہے: "دسوند"۔

دسوند
چونکہ آغاخانی اسلام کے کسی بھی حکم کا قرآن اور حدیث سے استمبات نہیں کرتے، لھٰذا زکوٰۃ کا بھی یہی حال ہے۔ آغاخانی اسماعیلی زکوٰۃ ادا نہیں کرتے بلکہ زکوٰۃ  کی جگہ دسوند دیتے ہیں۔

جس طرح ان کی اسماعیلی صلوٰۃ، رسول اللہ ﷺ کی بتائی ہوئی صلوٰۃ سے بلکل مختلف ہے، اسی طرح ان کی دسوند بھی اللہ اور اس کے رسول کی بتائی ہوئی زکوٰۃ سے بلکل الگ ہے۔

اسماعیلی اپنی مہانہ آمدنی پر کم از کم دس فی صد "دسوند" آغاخان کو ادا کرتے ہیں۔ پچھلے زمانے میں اسماعیلی ڈھائی فی صد کی مزید رقم اپنے پیر کو بھی ادا کرتے تھے. آج کل چونکہ آغا خان نے پیر کا منصب منسوخ کر دیا ہے، اور اپنے آپ کو "پیر" کا لقب دیا ہوا ہے، لہٰذا "خوجہ" اسماعیلی یہ مزید ڈھائی فی صد بھی آغاخان ہی کو ادا کرتے ہیں۔

یعنی ہر آغا خانی کی ہر مہینے کی آمدنی میں سے پورے ساڑھے بارہ فی صد آغا خان کو جاتا ہے.

علاوہ ازیں ہمارے ساتھ یہ بھی ہوتا تھا کہ اگر ہمارے خاندان کے کچھ افراد اگر کسی "مجلس" کے "ممبر" ہوں تو اس ادائیگی میں مذید اضافہ ہو جاتا تھا۔

مثال کے طور پر اگر 'مبارک منڈلی' (مبارک مجلس) کے ممبر ہوں، تو یہ ادائیگی پچیس (۲۵) فی صد تک بڑھ جاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ایک گھر میں اگر میاں بیوی دونوں ممبر ہوں تو اپنی تمام آمدنی کا ۲۵ فی صد حصہ دیں گے ۔ یہاں تک کہ اپنے جیب خرچ میں سے بھی!  لہٰذا شوہر اپنی آمدنی میں سے ۲۵ فی صد ادا کرے گا، اس کے بعد بیوی کو جیب خرچ دے گا، اب بیوی کی اگر کہیں سے آمدنی ہے، تو وہ اس کا تو ادائیگی پچیس (۲۵) فی صد ادا کرے گی ہی، اوپر سے جو شوہر نے دیا اس پر بھی پچیس (۲۵) فی صد ادا کرے گی، یاد رہے کہ یہ وہ جیب خرچ ہے جو شوہر نےپہلے سے "دسوند" نکال کر بیوی کو پیسے دیئے تھے۔ سوچیں آغاخان کی آمدنی کتنی ہو گی!

اب دیکھیں اسلام کی خوبصورتی: اسلام میں زکوٰۃ صرف زائد مال پر واجب الادا ہے، یعنی اپنے ضروری اخراجات نکالنے کے بعد وہ رقم جو کہ زائد ہو، اور بارہ مہینوں تک استعمال میں نہ آئے، اس پر زکوٰۃ ادا کی جاتی ہے۔ وہ بھی صرف ڈھائی فی صد – غرباء اور ضرورت مندوں کو-

آغاخان دعویٰ کرتا ہےکہ وہ نبی کریمﷺ کے خاندان سے ہے، جبکہ نبی کریمﷺ نے کبھی زکوٰۃ اور صدقات اپنے اہل و ایال کے لیئے قبول نہیں کیئے۔ ایک طرف تو آغاخان اہل ِبیت ہونے کا دعویٰ کرتا ہے، اور زکوٰۃ (دسوند) کے پیسے الگ لیتا ہے۔

اسماعیلی صدیوں سے دسوند کے نام پر اپنی آمدنی آغاخان پر لٹائے جا رہے ہیں۔ الحمدُللہ میں نے فیصلہ کیا کہ اپنا پیسہ پیرس اور لسبن کے محلات میں رہنے والے، شہانہ زندگی گزارنے والے شخص، یعنی آغا خان کو دینے سے بہتر ہے کہ کسی غریب کو زکوٰۃ کی مد میں اپنی رقم ادا کروں.

تحریر: اکبر خوجہ

میں آغاخانی سے مسلمان کیسے ہوا؟ - حصہ چہارم

میں آغاخانی سے مسلمان کیسے ہوا؟ - حصہ چہارم - پچھلی تین پوسٹوں میں، میں نے آغاخانیوں کے آغاخان سے دعا مانگنے پر، قرآن کی تعلیم...