بدھ، 21 نومبر، 2018

میں آغاخانی سے مسلمان کیسے ہوا؟ - حصہ سوئم



پچھلی دو پوسٹوں میں، میں نے آغاخانیوں کے مشرکانہ عقیدے، یعنی بجائے اللہ کے، آغاخان دعا مانگنے پر، جماعت خانے میں قرآن اور رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کی عدم موجودگی پر، اور صلوٰۃ کے عجیب و غریب طریقے پر روشنی ڈالی تھی۔ آج میرا موضوع صرف ایک لفظ ہے: "دسوند"۔

دسوند
چونکہ آغاخانی اسلام کے کسی بھی حکم کا قرآن اور حدیث سے استمبات نہیں کرتے، لھٰذا زکوٰۃ کا بھی یہی حال ہے۔ آغاخانی اسماعیلی زکوٰۃ ادا نہیں کرتے بلکہ زکوٰۃ  کی جگہ دسوند دیتے ہیں۔

جس طرح ان کی اسماعیلی صلوٰۃ، رسول اللہ ﷺ کی بتائی ہوئی صلوٰۃ سے بلکل مختلف ہے، اسی طرح ان کی دسوند بھی اللہ اور اس کے رسول کی بتائی ہوئی زکوٰۃ سے بلکل الگ ہے۔

اسماعیلی اپنی مہانہ آمدنی پر کم از کم دس فی صد "دسوند" آغاخان کو ادا کرتے ہیں۔ پچھلے زمانے میں اسماعیلی ڈھائی فی صد کی مزید رقم اپنے پیر کو بھی ادا کرتے تھے. آج کل چونکہ آغا خان نے پیر کا منصب منسوخ کر دیا ہے، اور اپنے آپ کو "پیر" کا لقب دیا ہوا ہے، لہٰذا "خوجہ" اسماعیلی یہ مزید ڈھائی فی صد بھی آغاخان ہی کو ادا کرتے ہیں۔

یعنی ہر آغا خانی کی ہر مہینے کی آمدنی میں سے پورے ساڑھے بارہ فی صد آغا خان کو جاتا ہے.

علاوہ ازیں ہمارے ساتھ یہ بھی ہوتا تھا کہ اگر ہمارے خاندان کے کچھ افراد اگر کسی "مجلس" کے "ممبر" ہوں تو اس ادائیگی میں مذید اضافہ ہو جاتا تھا۔

مثال کے طور پر اگر 'مبارک منڈلی' (مبارک مجلس) کے ممبر ہوں، تو یہ ادائیگی پچیس (۲۵) فی صد تک بڑھ جاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ایک گھر میں اگر میاں بیوی دونوں ممبر ہوں تو اپنی تمام آمدنی کا ۲۵ فی صد حصہ دیں گے ۔ یہاں تک کہ اپنے جیب خرچ میں سے بھی!  لہٰذا شوہر اپنی آمدنی میں سے ۲۵ فی صد ادا کرے گا، اس کے بعد بیوی کو جیب خرچ دے گا، اب بیوی کی اگر کہیں سے آمدنی ہے، تو وہ اس کا تو ادائیگی پچیس (۲۵) فی صد ادا کرے گی ہی، اوپر سے جو شوہر نے دیا اس پر بھی پچیس (۲۵) فی صد ادا کرے گی، یاد رہے کہ یہ وہ جیب خرچ ہے جو شوہر نےپہلے سے "دسوند" نکال کر بیوی کو پیسے دیئے تھے۔ سوچیں آغاخان کی آمدنی کتنی ہو گی!

اب دیکھیں اسلام کی خوبصورتی: اسلام میں زکوٰۃ صرف زائد مال پر واجب الادا ہے، یعنی اپنے ضروری اخراجات نکالنے کے بعد وہ رقم جو کہ زائد ہو، اور بارہ مہینوں تک استعمال میں نہ آئے، اس پر زکوٰۃ ادا کی جاتی ہے۔ وہ بھی صرف ڈھائی فی صد – غرباء اور ضرورت مندوں کو-

آغاخان دعویٰ کرتا ہےکہ وہ نبی کریمﷺ کے خاندان سے ہے، جبکہ نبی کریمﷺ نے کبھی زکوٰۃ اور صدقات اپنے اہل و ایال کے لیئے قبول نہیں کیئے۔ ایک طرف تو آغاخان اہل ِبیت ہونے کا دعویٰ کرتا ہے، اور زکوٰۃ (دسوند) کے پیسے الگ لیتا ہے۔

اسماعیلی صدیوں سے دسوند کے نام پر اپنی آمدنی آغاخان پر لٹائے جا رہے ہیں۔ الحمدُللہ میں نے فیصلہ کیا کہ اپنا پیسہ پیرس اور لسبن کے محلات میں رہنے والے، شہانہ زندگی گزارنے والے شخص، یعنی آغا خان کو دینے سے بہتر ہے کہ کسی غریب کو زکوٰۃ کی مد میں اپنی رقم ادا کروں.

تحریر: اکبر خوجہ

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

آغا خانى اسماعيلى فرقہ اور پاکستان کا تعلیمی مستقبل:

آغا خانيوں كو قومى تعليم ميں سركارى آرڈيننس(CXIV/2002)كى روسے بڑا اہم كردار سونپا جا چكا ہے اور وفاقى وزير تعليم نے كہا ہے كہ اس آرڈيننس ...